اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 387

باب بدر جلد 3 387 حضرت عثمان بن عفان تھے۔جب آپ پر نزول وحی ہو تا تو آپ پر بہت شدید بوجھ نازل ہو جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اِنا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلاً (المزمل:6) کہ یقینا ہم تجھ پر ایک بھاری فرمان اتاریں گے۔حضرت عثمان نبی صلی علیہ یکم کے سامنے بیٹھے لکھتے جارہے تھے اور آپ فرما رہے تھے کہ اے عثمان ! لکھ۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالی ، رسول اللہ صلی اللہ ﷺ کا ایسا قرب کسی نہایت معزز و مکرم شخص کو ہی عطا فرماتا ہے۔750 اشاعت قرآن حضرت ابو بکر کے زمانے میں قرآن کریم کے تحریری صحیفے جمع ہوئے جو انہوں نے اپنے پاس رکھے۔پھر حضرت عمر کے پاس وہ صحیفے رہے۔اس کے بعد حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس رہے۔جب حضرت عثمان کی خلافت کا دور آیا تو آپ کے پاس یہ نسخے پہنچنے کی روایت اس طرح ملتی ہے۔حضرت حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ وہ اہل عراق کے ساتھ مل کر فتح آرمینیا اور آذربائیجان کے لیے اہل شام سے جنگ کر رہے تھے اور وہاں سے لوٹ کر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت حذیفہ کو ان علاقوں کے لوگوں کی قرآن کریم کی قراءت میں اختلاف کی وجہ سے خوف لاحق ہوا۔آپ نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین! اس امت کو سنبھالیں قبل اس کے کہ وہ کتاب اللہ کے بارے میں یہود و نصاریٰ کی مانند اختلاف کرنے لگ جائیں۔اس پر حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ قرآن کریم کے تحریری صحیفے ہمیں بھیج دیں تا کہ ہم ان کے نسخے تیار کریں۔اس کے بعد وہ صحیفے آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔چنانچہ حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کی خدمت میں بھجوا دیے۔اس پر حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت سعید بن عاص اور حضرت عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ ان کی نقول تیار کریں۔حضرت عثمان نے مؤخر الذکر تینوں صحابہ کو جو قریش سے تھے کہا کہ جب تمہارا اور زید کا قرآن کے کسی ٹکڑے کے متعلق اختلاف ہو تو اسے قریش کی زبان میں تحریر کرو کیونکہ قرآن کریم قریش کی زبان میں اترا ہے۔چنانچہ ان اصحاب نے یہ کام کیا۔جب نقول تیار ہو گئیں تو اصلی صحیفے حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو واپس بھجوادیے اور نئے تیار شدہ نسخے مختلف ممالک میں بھجوا کر حکم دیا کہ اس کے علاوہ جو بھی دیگر نسخے ہوں وہ جلا کر تلف کر دیے جائیں۔علامہ ابن التین کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کے جمع قرآن کے واقعہ کا فرق یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے قرآن کو اس خوف سے جمع کیا کہ کہیں حفاظ قرآن کے وفات پا جانے کی وجہ سے قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے کیونکہ قرآن یکجا جمع نہیں کیا گیا تھا۔لہذا آپ نے قرآن کریم کو اس کی آیات کی اس ترتیب کے مطابق جمع کیا جس ترتیب کے مطابق نبی کریم صلی علیم نے انہیں قرآن کریم حفظ کروایا تھا جبکہ حضرت عثمان کے جمع قرآن کا واقعہ یہ ہے کہ جب قراءت میں بہت زیادہ اختلاف ہونے لگا یہاں کے 751