اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 377
اصحاب بدر جلد 3 377 حضرت عثمان بن عفان گئی اور کچھ مغربی جانب بھی۔شمالی جانب صحابہ کرام کے چند گھر تھے۔اس جانب ایک انصاری صحابی کا گھر تھا جس کو اپنا مکان دینے میں کچھ پس و پیش تھا۔ایسے میں جیسے کے پہلے بیان ہو چکا ہے حضرت عثمان بن عفان نے اپنی جیب سے دس ہزار دینار دے کر وہ گھر خرید لیا اور نبی کریم صلی ای کمی کی خدمت میں پیش کیا۔اس طرح مسجد کی توسیع زیادہ تر شمالی جانب اور مغربی جانب ممکن ہو سکی۔اس توسیع کے بعد مسجد کا کل رقبہ 100 × 100 ذرع یعنی 50x50 میٹر ہو گیا۔726 حضرت عمرؓ کے دور میں مسجد نبوی کی دوسری توسیع 17 / ہجری میں ہوئی۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صل اللی یم کے دور میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے بنی ہوئی تھی اور ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق نے اس کو اسی حالت میں رہنے دیا اور اس میں کوئی تبدیلی یا توسیع نہیں کی۔حضرت عمرؓ نے اس کی تعمیر نو اور توسیع کروائی مگر اس کی ہیئت اور طرز تعمیر میں کوئی تبدیلی نہیں کروائی۔جس طرح تھا انہی بنیادوں پر یا اسی طرح پرانا حصہ رہنے دیا تھا۔انہوں نے بھی اسے اسی طرح کے طرز تعمیر سے بنوایا صرف ایکسٹینشن ہوئی۔چھت پہلے کی طرح کھجور کے پتوں کی ہی رہی۔انہوں نے صرف ستون لکڑی کے ڈلوا دیے۔حضرت عمر نے 17 ہجری میں مسجد کی تعمیر کو اپنے زیر نگرانی مکمل کروایا۔اس توسیع کے بعد مسجد کا رقبہ 50x50 میٹر جو پہلے تھا سے بڑھ کر 60x70 میٹر ہو گیا یا 120x140 ذرع ہو گیا۔اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے دور میں بھی مسجد نبوی وہی رہی جو کہ رسول اللہ صل الیم کے عہد میں تھی تاہم حضرت عمر کی تعمیر نو کے ساتھ اس میں کافی توسیع ہو گئی۔727 پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع ہوئی اور تعمیر نو بھی ہوئی۔یہ 129 ہجری کا واقعہ ہے۔حضرت عثمان نے مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر نو کی تو اسے خوبصورت اور مضبوط بنانے کے لیے پتھر جسم اور نقش و نگار کا استعمال کیا۔حضرت عثمان نے دیواریں پتھر کی بنوائیں جن پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے اور مسجد نبوی میں پہلی بار سفیدی کے لیے چونے کا استعمال بھی کیا گیا۔چھت میں شیشم کی لکڑی استعمال ہوئی تھی۔جب حضرت عثمان 124 ہجری میں خلیفہ منتخب ہوئے تو لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ مسجد نبوی کی توسیع کر دی جائے۔انہوں نے ن کی تنگی کی شکایت کی۔خاص طور پر نماز جمعہ کے اجتماعات پر ایسا کثرت سے ہوتا۔اکثر ہو تا کہ لوگوں کو مسجد کے باہر والے حصہ میں نماز ادا کرنی پڑتی تھی۔لہذا حضرت عثمان نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔سب کی رائے یہی تھی کہ پرانی مسجد کو مسمار کر کے اس کی جگہ نئی مسجد تعمیر کر دی جائے۔پہلی مسجد کو گرا دیا جائے، نئی تعمیر کی جائے۔ایک دن حضرت عثمان نے نماز ظہر کے بعد منبر پر خطبہ دیا اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔میں مسجد کو مسمار کر کے اس کی جگہ نئی مسجد بنانا چاہتا ہوں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ جو بھی مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں ایک گھر عطا کر دیتا ہے۔مجھ سے پہلے حضرت عمر فاروق تھے ان کے ہاتھوں