اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 18
حاب بدر جلد 3 18 حضرت عمر بن خطاب کی تلاش تھی۔دریافت پر اسے معلوم ہوا کہ حضرت نصف شب کے وقت خانہ کعبہ میں بغرض نماز آتے ہیں۔یہ وقت عمدہ سمجھ کر حضرت عمرؓ سر شام خانہ کعبہ میں جا چھپے۔آدھی رات کے وقت جنگل میں سے لا إلهَ إِلَّا الله کی آواز آنا شروع ہوئی۔حضرت عمرؓ نے ارادہ کیا کہ جب آنحضرت صلی علیہ کم سجدہ میں گریں تو اس وقت قتل کروں۔آنحضرت صلی الم نے درد کے ساتھ مناجات شروع کی اور سجدہ میں اس طرح حمد الہی کا ذکر کیا کہ حضرت عمر کا دل پسیج گیا۔اس کی ساری جرآت جاتی رہی اور اس کا قاتلانہ ہاتھ ست ہو گیا۔“ یہاں اس میں حضرت عمر کی نرمی کو آپ نے اس طرح بیان کیا ہے۔”نماز ختم کر کے جب آنحضرت صلی علی کم گھر کو چلے تو ان کے پیچھے حضرت عمرؓ ہو گئے۔آنحضرت صلی علیہم نے آہٹ پاکر دریافت کیا اور معلوم ہونے پر فرمایا کہ اے عمر ! کیا تو میرا پیچھا نہ چھوڑے گا۔حضرت عمرؓ بد دعا کے ڈر سے بول اٹھے کہ حضرت میں نے آپ کے قتل کا ارادہ چھوڑ دیا۔میرے حق میں بد دعانہ کیجئے گا۔چنانچہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ وہ پہلی رات تھی جب مجھ میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی۔34 یہ بتانے کے لیے اب میں نے تین مختلف حوالے پڑھے ہیں۔ایک جنوری 1901ء کا ہے، ایک اگست 1902ء کا، ایک جون 1904ء کا ہے یا شاید 1907ءکا ہے۔بہر حال ان تینوں جگہوں پر رات کو خانہ کعبہ میں حملے کا ذکر آپ نے فرمایا ہے۔شاید اس کے بعد ر نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر دن کو بھی نکلے ہوں گے اور وہ بہن بھائی والا واقعہ پیش آیا جس کو عام بیان کیا جاتا ہے لیکن بہر حال آپ نے تینوں دفعہ یہی فرمایا اور یہ ہوا کیونکہ نفس امارہ کا بھی آپ نے ذکر کیا۔ہو سکتا ہے پھر ایک جوش آیا ہو اور اس وقت نکلے ہوں اور دونوں واقعات میں یہ ذکر تو بہر حال ہے چاہے وہ بہن والا واقعہ ، بہن بہنوئی والا یا یہ رات کو قتل والا کہ ابو جہل کے بھڑ کانے اور انعام مقرر کرنے پہ آپ نے، حضرت عمرؓ نے یہ ارادہ کیا تھا۔ابو جہل فرعون بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”ابو جہل کو فرعون کہا گیا ہے مگر میرے نزدیک وہ تو فرعون سے بڑھ کر ہے فرعون نے تو آخر کہا۔آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاء يُلَ (یونس: 91) مگر یہ آخر تک ایمان نہ لایا مکہ میں سارا فساد اسی کا تھا اور بڑا متکبر اور خود پسند، عظمت اور شرف کو چاہنے والا تھا اس کا اصل نام بھی عمر و تھا اور یہ دونوں عمر مکہ میں تھے۔خدا کی حکمت کہ ایک عمر کو بھینچ لیا اور ایک بے نصیب رہا۔اس کی روح تو دوزخ میں جلتی ہو گی اور حضرت عمرؓ نے ضد چھوڑ دی تو بادشاہ ہو گئے۔حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی الیکم نے یہ دعا کرتے ہوئے آپ کے سینے پر تین دفعہ ہاتھ مارا۔اَللَّهُمَّ أَخْرِجْ مَا فِي صَدْرِهِ مِنْ غِلٍ وَأَبْدِلْهُ ایمانا۔اے اللہ ! اس کے سینے میں جو کچھ بھی بغض ہے اس کو دور کر دے اور اس کو ایمان سے بدل 3566