اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 17
محاب بدر جلد 3 17 حضرت عمر بن خطاب پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا عمر۔آپ نے فرمایا اے عمر ا نہ تو رات کو پیچھا چھوڑتا ہے اور نہ دن کو۔اس وقت مجھے رسول اللہ کی روح کی خوشبو آئی اور میری روح نے محسوس کیا کہ آنحضرت صیلی ام بددعا کریں گے۔میں نے عرض کیا: یا حضرت! بد دعانہ کریں۔حضرت عمر " کہتے ہیں کہ وہ وقت اور وہ گھڑی میرے اسلام کی تھی۔یہاں تک کہ خدا نے مجھے توفیق دی کہ میں مسلمان ہو گیا۔32 یہ ایک روایت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور ایک اور جگہ دوسری بھی اسی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک وقفہ کے بعد آپ نے بیان فرمائی ہے۔وہ بھی یہی باتیں ہیں لیکن اس میں آخر میں ایک دو الفاظ ذرا مزید مختلف نتیجہ نکالے ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابو جہل کے ساتھ اسلام سے پہلے ملتے تھے۔بلکہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ابو جہل نے منصوبہ کیا کہ آنحضرت صلی ایم کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جاوے اور کچھ روپیہ بھی بطور انعام مقرر کیا۔حضرت عمرؓ اس کام کے لیے منتخب ہوئے۔چنانچہ انہوں نے اپنی تلوار کو تیز کیا اور موقع کی تلاش میں رہے۔آخر حضرت عمر کو پتہ ملا کہ آدھی رات کو آپ کعبہ میں آکر نماز پڑھتے ہیں۔چنانچہ یہ کعبہ میں آکر چھپ رہے اور انہوں نے سنا کہ جنگل کی طرف سے لا اله الا اللہ کی آواز آتی ہے اور وہ آواز قریب آتی گئی۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی للی کام کعبہ میں آداخل ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ نے سجدہ میں اس قدر مناجات کی کہ مجھے تلوار چلانے کی جرات نہ رہی۔چنانچہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ آگے چلے۔پیچھے پیچھے میں تھا۔آنحضرت صلی علیہ یکم کو میرے پاؤں کی آہٹ معلوم ہوئی اور آپ نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ عمر۔اس پر آپ نے فرمایا۔اے عمر انہ تو دن کو میرا پیچھا چھوڑتا ہے نہ رات کو۔آنحضرت صلی علیہم کے اس قول سے حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ آپ بد دعا کریں گے۔اس لیے میں نے کہا کہ حضرت آج کے بعد میں آپ کو ایذا نہ دوں گا۔عربوں میں چونکہ وعدہ کا لحاظ بہت بڑا ہو تا تھا۔اس لیے آنحضرت نے یقین کر لیا مگر دراصل حضرت عمر کا وقت آپہنچا تھا۔“ یہ باتیں پچھلے حوالے سے ذرانٹی ہیں۔”آنحضرت کے دل میں گذرا کہ اس کو خد ا ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ آخر حضرت عمر مسلمان ہوئے اور پھر وہ دوستیاں وہ تعلقات جو ابو جہل اور دوسرے مخالفوں سے تھے یکلخت ٹوٹ گئے اور ان کی جگہ ایک نئی اخوت قائم ہوئی۔حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ ملے اور پھر ان پہلے تعلقات کی طرف بھی خیال تک نہ آیا۔334 الله ایک جگہ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا وہی واقعہ اسی طرز پہ بیان کرتے ہوئے پھر آپ نے بیان فرمایا ہے۔ہلکے سے چند ایک الفاظ مختلف ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر کا آنحضرت صلی اللی علم کے قتل کے لیے جانا آپ لوگوں نے سنا ہو گا۔ابو جہل نے ایک قسم کا اشتہار قوم میں دے رکھا تھا کہ جو جناب رسالت تاب کو قتل کرے گا وہ بہت کچھ انعام و اکرام کا مستحق ہو گا۔حضرت عمر نے مشرف باسلام ہونے سے پہلے ابو جہل سے معاہدہ کیا اور قتل حضرت کے لیے آمادہ ہو گیا۔اس کو کسی عمدہ وقت