اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 347
اصحاب بدر جلد 3 347 حضرت عثمان بن عفان اصل واقعات نہیں بیان کرتے۔غرض اسی طرح حضرت عثمانؓ نے تمام اعتراضات ایک ایک کر کے بیان کیے اور ان کے جواب بیان کیے۔صحابہ برابر زور دیتے کہ ان مفسدین کو قتل کر دیا جائے مگر حضرت عثمان نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا۔طبری کہتا ہے کہ آتِي الْمُسْلِمُوْنَ إِلَّا قَتْلَهُمْ وَأَبِي إِلَّا تز گهُمْ یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے مگر حضرت عثمان سزا دینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسد لوگ کس کس قسم کے فریب اور دھوکے سے کام کرتے تھے اور اس زمانے میں جبکہ پر لیں اور سامانِ سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آج کل ہے۔کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوں کو گمراہ کر دیں۔اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہیں تھی۔نہ حق ان کے ساتھ تھانہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ان کی تمام کارروائیوں کا دارو مدار جھوٹ اور باطل پر تھا اور صرف حضرت عثمان کار حم ان کو بچائے ہوئے تھا ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔وہ یعنی صحابہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور جو پرانے مسلمان تھے یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ امن و امان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے اس طرح جاتا رہے اور وہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کو جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہ و بالا ہو جائے گی مگر حضرت عثمان رحم مجسم تھے۔وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہو ان لوگوں کو ہدایت مل جائے اور یہ کفر پر نہ مریں۔پس آپ ڈھیل دیتے تھے اور ان کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادہ بغاوت سے تعبیر کر کے سزا کو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اول تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہل مدینہ ہمارے ساتھ ہیں یعنی مفسدین نے صرف تین اہل مدینہ کا نام لیا جو اُن کے ساتھ تھے اس سے زیادہ نہیں۔اگر اور صحابہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام بھی لیتے۔دوسرے صحابہ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے اور ان کے اعمال کو ایسا خلاف شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔اگر صحابہ ان کے ساتھ ہوتے یا اہل مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ وبہانہ کی ان لوگوں کو کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔اسی وقت وہ لوگ حضرت عثمان کو قتل کر دیتے اگر مدینہ والے بہت سارے ان کے ساتھ ہوتے اور ان کی جگہ کسی اور شخص کو خلافت کے لیے منتخب کر لیتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جانیں صحابہ کی شمشیر ہائے بر ہنہ سے خطرے پڑ گئی تھیں اور صرف اسی رحیم و کریم وجود کی عنایت و مہربانی سے یہ لوگ بیچ کر واپس جاسکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدر فساد برپا کر رہے تھے۔ان مفسدوں کی کینہ وری اور تقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے۔اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ان کے ایک