اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 343
اصحاب بدر جلد 3 343 حضرت عثمان بن عفان نے آپ کے گھر میں محصور کر دیا تھا اور پھر انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔678 حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں اختلافات کا آغاز اور اس کی وجوہات کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت عثمان اور حضرت علی یہ دونوں بزرگ اسلام کے اولین فدائیوں میں سے ہیں اور ان کے ساتھی بھی اسلام کے بہترین ثمرات میں سے ہیں۔ان کی دیانت اور ان کے تقویٰ پر الزام کا آنا در حقیقت اسلام کی طرف عار کا منسوب ہونا ہے۔اور جو مسلمان بھی سچے دل سے اس حقیقت پر غور کرے گا اُس کو اس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ ان لوگوں کا وجود در حقیقت تمام قسم کی دھڑ بندیوں سے ارفع اور بالا ہے اور یہ بات بے دلیل نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق اس شخص کے لئے جو آنکھ کھول کر ان پر نظر ڈالتا ہے اس امر پر شاہد ہیں۔جہاں تک میری تحقیق ہے ان بزرگوں اور ان کے دوستوں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ اسلام کے دشمنوں کی کارروائی ہے اور گو صحابہ کے بعد بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی اپنی نفسانیت کے ماتحت ان بزرگوں میں سے ایک یا دوسرے پر اتہام لگائے ہیں لیکن باوجود اس کے صداقت ہمیشہ بلند و بالا رہی ہے اور حقیقت بھی پردہ خفا کے نیچے نہیں چھپی۔حضرت عثمان کے خلاف جو فتنہ اٹھا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا باعث بعض لوگوں نے حضرت عثمان کو قرار دیا ہے اور بعض نے حضرت علی ہو۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بعض بدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خلافت کے لئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمان کے خلاف مخالفت پیدا کر کے انہیں قتل کرا دیا تا کہ خود خلیفہ بن جائیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔نہ حضرت عثمان نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علی نے خود خلیفہ بننے کے لئے انہیں قتل کرایا یا ان کے قتل کے منصوبہ میں شریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی اور ہی وجوہات تھیں۔679" حضرت عثمان اور حضرت علی کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے۔وہ نہایت مقدس انسان تھے۔حضرت عثمان تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۔“یہ ترمذی کی روایت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ”اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہو گا بلکہ یہ تھا مطلب اس کا کہ ان میں اتنی خوبیاں پید اہو گئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ ممکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔پس حضرت عثمان ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلاف شریعت بات جاری کرتے اور نہ حضرت علی ایسے انسان تھے کہ خلافت کے لئے خفیہ منصوبے کرتے۔6806