اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 307

محاب بدر جلد 3 307 حضرت عثمان بن عفان 608 کرتے رہتے۔پھر ایک عورت آئی اور اس نے آپ کو ان کے بارے میں بتایا۔اس پر نبی صلی الیم نے فرمایا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد عثمان وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہے۔18 حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان نے ارض حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی الیکم نے انہیں فرمایا کہ رقیہ کو بھی ہمراہ لے جاؤ۔میر اخیال ہے کہ تم میں سے ایک اپنے ساتھی کا حوصلہ بڑھاتا رہے گا۔یعنی دونوں ہوں گے تو ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہو گے۔پھر رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت اسماء بنت ابو بکر کو فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں کی خبر لاؤ کہ چلے گئے ہیں ؟ کہاں تک پہنچے ہیں ؟ کیا حالات ہیں باہر کے ؟ حضرت اسماء جب واپس آئیں تو حضرت ابو بکر بھی رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت عثمان ایک خچر پر پالان ڈال کر حضرت رقیہ کو اس پر بٹھا کر سمندر کی طرف نکل گئے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا: اے ابو بکر ! حضرت لوط اور حضرت ابراہیمؑ کے بعد یہ دونوں ہجرت کرنے والوں میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔609 پھر حبشہ سے ان کی واپسی کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال نیم کے جن صحابہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی انہیں خبر پہنچی کہ مکہ والے اسلام لے آئے ہیں۔اس پر یہ مہاجرین حبشہ سے مکہ کی طرف واپس لوٹے۔جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔اس پر یہ لوگ پوشیدہ طور پر یا کسی کی امان میں آکر مکہ میں داخل ہوئے۔ان میں سے بعض تو ایسے تھے کہ جنہوں نے پھر مدینہ ہجرت کی اور بد ر اور احد کی جنگ میں آپ کے ساتھ یعنی رسول پاک صلی میں کمی کے ساتھ شریک ہوئے اور بعض ایسے تھے جن کو کفار نے مکہ میں ہی روک لیا اور وہ جنگ بدر وغیرہ میں شریک نہیں ہو سکے۔حبشہ سے آکر پھر مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والوں میں حضرت عثمانؓ اور ان کی بیوی حضرت رقیہ بنت رسول صلی علیکم بھی شامل تھیں۔610 حضرت عثمان حبشہ میں چند سال رہے۔کتاب میں ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ چند سال رہے۔اس کے بعد جب بعض صحابہ قریش کے اسلام کی غلط خبر پا کر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بھی آگئے۔یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے۔اس بنا پر بعض صحابہ پھر حبشہ کی طرف لوٹ گئے مگر حضرت عثمان مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ مدینہ کی ہجرت کا سامان پیدا ہو گیا اور رسول اللہ صلی علی یم نے اپنے تمام صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا ارشاد فرمایا تو حضرت عثمان بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے 611 612 ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت عثمان دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔2 لیکن اکثر کتب سیرت میں حضرت عثمان کی حبشہ کی طرف اس دوسری ہجرت کا ذکر نہیں ہے۔ویسے