اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 300
اصحاب بدر جلد 3 300 حضرت عمر بن خطاب طرف رہنمائی کرتا ہے اور ان کی بادِ نسیم اپنے معطر جھونکوں سے ان کے اسرار کا پتہ دیتی ہے اور ان کے انوار اپنی پوری تابانیوں سے ہم پر ظاہر ہوتے ہیں پس تم ان کے مقام کی چمک دمک کا ان کی خوشبو کی مہک سے پتہ لگاؤ اور جلد بازی کرتے ہوئے بد گمانیوں کی پیروی مت کرو اور بعض روایات پر تکیہ نہ کرو! کیونکہ ان میں بہت زہر اور بڑا غلو ہے اور وہ قابل اعتبار نہیں ہو تیں۔ان میں سے بہت ساری روایات تہ و بالا کرنے والی آندھی اور بارش کا دھوکہ دینے والی بجلی کے مشابہ ہیں۔پس اللہ سے ڈر اور ان ( روایات) کی پیروی کرنے والوں میں سے نہ بن۔5924 پھر آپ فرماتے ہیں: بخدا اللہ تعالیٰ نے شیخین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو اور تیسرے جو ذوالنورین ہیں ہر ایک کو اسلام کے دروازے اور خیر الانام محمد رسول اللہ صلی اللی کم کی فوج کے ہر اول دستے بنایا ہے۔پس جو شخص ان کی عظمت سے انکار کرتا ہے اور ان کی قطعی دلیل کو حقیر جانتا ہے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش نہیں آتا بلکہ ان کی تذلیل کرتا اور ان کو برا بھلا کہنے کے درپے رہتا ہے اور زبان درازی کرتا ہے مجھے اس کے بد انجام اور سلب ایمان کا ڈر ہے اور جنہوں نے اس کو دکھ دیا، ان پر لعن کیا اور بہتان لگائے تو دل کی سختی اور خدائے رحمان کا غضب ان کا انجام ٹھہرا۔میر ابار ہا کا تجربہ ہے اور میں اس کا کھلے طور پر اظہار بھی کر چکا ہوں کہ ان سادات سے بغض و کینہ رکھنا برکات ظاہر کرنے والے اللہ سے سب سے زیادہ قطع تعلقی کا باعث ہے اور جس نے بھی ان سے دشمنی کی تو ایسے شخص پر رحمت اور شفقت کی سب راہیں بند کر دی جاتی ہیں اور اس کے لئے علم و عرفان کے دروازے وا نہیں کئے جاتے اور اللہ تعالیٰ انہیں دنیا کی لذات و شہوات میں چھوڑ دیتا ہے اور نفسانی خواہشات کے گڑھوں میں گرادیتا ہے اور اسے اپنے آستانے سے دور رہنے والا اور محروم کر دیتا ہے انہیں یعنی خلفائے راشدین کو اسی طرح اذیت دی گئی جس طرح نبیوں کو دی گئی اور ان پر لعنتیں ڈالی گئیں جس طرح مرسلوں پر ڈالی گئیں اس طرح ان کا رسولوں کا وارث ہونا ثابت ہو گیا اور روز قیامت ان کی جزا اقوام و ملل کے ائمہ جیسی متحقق ہو گئی کیونکہ جب مومن پر کسی قصور کے بغیر لعنت ڈالی جائے اور کافر کہا جائے اور بلا وجہ اس کی ہجو کی جائے اور اسے برا بھلا کہا جائے تو وہ انبیاء کے مشابہ ہو جاتا ہے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کی مانند بن جاتا ہے۔پھر اسے بدلہ دیا جاتا ہے جیسا نبیوں کو بدلہ دیا جاتا ہے اور مرسلوں جیسی جزا پاتا ہے۔یہ لوگ بلاشبہ حضرت خیر الانبیاء کی اتباع میں عظیم مقام پر فائز تھے اور جیسا کہ بزرگ و برتر اللہ نے ان کی مدح فرمائی وہ ایک اعلیٰ امت تھے اور اس نے خود اپنی روح سے ان کی ایسی ہی تائید فرمائی جیسے وہ اپنے تمام برگزیدہ بندوں کی تائید فرماتا ہے اور فی الحقیقت ان کے صدق کے انوار اور ان کی پاکیزگی کے آثار پوری تابانی سے ظاہر ہوئے اور یہ کھل کر واضح ہو گیا کہ وہ سچے تھے اور اللہ ان سے اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے انہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو دنیا جہان میں کسی اور کو نہ دیا گیا۔93 593