اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 301

اصحاب بدر جلد 3 301 حضرت عمر بن خطاب پھر آپ شیعہ حضرات کی ایک بات کو رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”شیعہ حضرات میں سے جو یہ خیال کرتا ہے کہ (ابوبکر) صدیق یا (عمر) فاروق نے (علی) مرتضی یا (فاطمتہ الزھرۃ کے حقوق کو غصب کیا اور ان پر ظلم کیا تو ایسے شخص نے انصاف کو چھوڑا اور زیادتی سے پیار کیا اور ظالموں کی راہ اختیار کی۔یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اپنے وطن، عزیز دوست اور مال و متاع چھوڑے اور جنہیں کفار کی طرف سے اذیتیں دی گئیں اور جو شر پسندوں کے ہاتھوں بے گھر ہوئے مگر (پھر بھی) انہوں نے اچھے اور نیک لوگوں کی طرح صبر کیا اور وہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے (پھر بھی) گھروں کو سیم و زر سے نہ بھرا اور نہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو سونے اور چاندی کا وارث بنایا بلکہ جو کچھ حاصل ہو اوہ بیت المال کو دے دیا اور انہوں نے دنیا داروں اور گمر اہوں کی طرح اپنے بیٹوں کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا۔انہوں نے اس دنیا میں زندگی فقر اور تنگدستی کی حالت میں بسر کی اور وہ امراء اور رؤسا کی طرح ناز و نعمت کی طرف مائل نہ ہوئے۔کیا ان کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ازراہِ تعدی لوگوں کے اموال چھیننے والے تھے اور حق چھیننے ، لوٹ مار کرنے اور غارت گری کی طرف میلان رکھنے والے تھے۔کیا سرور کائنات رسول اللہ صلی علیکم کی صحبت قدسیہ کا یہ اثر تھا؟ حالانکہ اللہ تمام کائنات کے رب نے ان کی حمد و ثناء کی۔حقیقت یہ ہے کہ (اللہ) نے ان کے نفوس کا تزکیہ فرمایا اور ان کے دلوں کو پاکیزگی بخشی اور ان کے وجو دوں کو منور کیا اور آئندہ آنے والے پاکبازوں کا پیش رو بنایا اور ہم کوئی کمزور احتمال اور سطحی خیال بھی نہیں پاتے جو ان کی نیتوں کے فساد کی خبر دے یا ان کی ادنی برائی کی طرف اشارہ کرتا ہو چہ جائیکہ ان کی ذات کی طرف ظلم منسوب کرنے کا کوئی پختہ ارادہ کرے۔بخدا وہ انصاف کرنے والے لوگ تھے۔اگر انہیں مال حرام کی وادی بھی دی جاتی تو وہ اس پر تھوکتے بھی نہیں اور نہ ہی حریصوں کی طرح اس کی طرف مائل ہوتے خواہ سونا پہاڑوں جتنا یا سات زمینوں جتنا ہوتا۔اگر انہیں حلال مال ملتا تو وہ ضرور اسے صاحب جبروت (خدا) کی راہ اور دینی مہمات میں خرچ کرتے۔پس ہم یہ کیسے خیال کر سکتے ہیں کہ انہوں نے چند درختوں کی خاطر (فاطمتہ الزھراء کو ناراض کر دیا اور جگر گوشئہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو شر پسندوں کی طرح اذیت دی بلکہ شرفاء نیک نیت ہوتے اور حق پر ثابت قدم ہوتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ان پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور اللہ متقیوں کے باطن کو خوب جانتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ”سچ تو یہ ہے کہ (ابو بکر صدیق اور (عمر) فاروقی دونوں اکابر صحابہ میں سے تھے۔ان دونوں نے ادائیگی حقوق میں کبھی کو تا ہی نہیں کی۔انہوں نے تقویٰ کو اپنی راہ اور عدل کو اپنا مقصود بنالیا تھا۔وہ حالات کا گہرا جائزہ لیتے اور اسرار کی کنہ تک پہنچ جاتے تھے۔دنیا کی خواہشات کا حصول بھی بھی ان کا مقصود نہ تھا۔انہوں نے اپنے نفوس کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھا۔کثرت فیوض اور نبی الثقلین کے دین کی تائید میں شیخین (یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) جیسا میں نے کسی کو نہ 594"