اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 283
محاب بدر جلد 3 283 حضرت عمر بن خطاب بارے میں کسی کو بھی بتایا تو میں تجھے پورے شہر والوں کے سامنے عبرت کا نشان بناؤں گا بلکہ اس کا نکاح ایک پاکدامن مسلمان عورت کی طرح کر دو۔534 بھول جاؤ باتوں کو۔طاعون عمواس اور حضرت عمر کی لوگوں کی جانوں کے بارے میں فکر کیا تھی؟ اس بارے میں آتا ہے کہ رملہ سے بیت المقدس کے راستے میں چھ میل کے فاصلے پر ایک وادی ہے جس کا نام عمو اس ہے۔کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ یہاں سے مرض طاعون کا آغاز ہوا اور ارض شام میں پھیل گیا۔اس لیے اسے طاعون عمواس کہا جاتا ہے۔اس مرض سے شام میں لاتعداد اموات ہوئیں۔بعض کے نزدیک اس سے پچیس ہزار کے قریب اموات ہوئیں۔سترہ ہجری کو حضرت عمر مدینہ سے شام کے لیے روانہ ہوئے اور سرغ مقام پر پہنچ کر سپہ سالاران لشکر سے ملاقات کی۔مرغ بھی شام اور حجاز کے سرحدی علاقے میں وادی تبوک کی ایک بستی کا نام ہے۔اور آپ کو اس بات کی اطلاع دی گئی کہ زمین عمو اس میں بیماری پھیلی ہوئی ہے تو آپ مشورے کے بعد واپس لوٹ آئے۔اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک روایت میں یوں مذکور ہے۔یہ پہلے بھی ایک دفعہ ایک اور حوالے سے اس واقعہ کا کچھ بیان ہو چکا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر شرغ مقام پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء حضرت ابو عبیدہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔ان لوگوں نے حضرت عمر کو بتایا کہ شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔حضرت عمرؓ نے اپنے پاس مشورہ کے لیے اولین مہاجرین کو بلایا۔حضرت عمرؓ نے ان سے مشورہ کیا مگر مہاجرین میں اختلاف رائے ہو گئی۔بعض کا کہنا تھا کہ یہاں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جبکہ بعض نے کہا کہ اس لشکر میں رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ کرام شامل ہیں اور ان کو اس وبا میں ڈالنا مناسب نہیں۔حضرت عمرؓ نے مہاجرین کو بھجوا دیا اور انصار کو بلایا، ان سے مشورہ لیا گیا مگر انصار کی رائے میں بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔حضرت عمرؓ نے انصار کو بھجوایا اور پھر فرمایا قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے۔ان کو بلایا گیا انہوں نے یک زبان ہو کر مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی علاقے میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔حضرت عمرؓ نے لوگوں میں واپسی کا اعلان کر دیا۔حضرت ابو عبیدہ نے اس موقع پر سوال کیا۔کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ممکن ہے ؟ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ سے فرمایا۔اے ابو عبیدہ ! کاش تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی۔ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار ہوتے ہوئے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف جاتے ہیں۔اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ان کو لے کر ایسی وادی میں اتر و جس کے دو کنارے ہوں۔ایک سر سبز اور دوسرا خشک تو کیا ایسا نہیں کہ اگر تم اپنے اونٹوں کو سر سبز جگہ پر چر اؤ تو وہ اللہ کی تقدیر سے ہے اور اگر تم ان کو خشک جگہ پر چرا او تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہے۔راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی آگئے جو پہلے اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اس مسئلے کا علم ہے۔میں نے رسول اللہ صلی الی یم