اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 231

اصحاب بدر جلد 3 231 حضرت عمر بن خطاب اللہ پڑھا۔حضرت عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جھینہ کو آواز دی وہ حیرہ کے نصاریٰ میں سے ایک نصرانی تھا وہ سعد بن ابی وقاص کا مددگار تھا انہوں نے اسے صلح کے لیے مدینہ بھیجا تھا جو کہ اس کے اور ان کے درمیان ہوئی تھی۔وہ مدینہ میں کتابت سکھاتا تھا۔جب میں نے اسے تلوار ماری تو اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے صلیب کا نشان بنایا۔پھر حضرت عبید اللہ آگے بڑھے اور ابولولون کی بیٹی کو قتل کر دیا جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتی تھی۔حضرت عبد اللہ کا ارادہ تھا کہ آج وہ مدینہ میں کسی قیدی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔مہاجرین ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے اور انہیں روکا اور انہیں دھمکی دی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں انہیں ضرور قتل کروں گا۔اور وہ مہاجرین کو بھی خاطر میں نہ لائے حتی کہ حضرت عمر و بن عاص ان کے ساتھ مسلسل بات چیت میں لگے رہے حتی کہ انہوں نے تلوار حضرت عمروبن عاص کے حوالے کر دی۔پھر حضرت سعد بن ابی وقاص ان کے پاس آئے تو ان دونوں نے ایک دوسرے کی پیشانی کے بال پکڑ لیے۔غرض آپ نے ھرمزان، جھینہ اور ابولولوہ کی بیٹی کو قتل کر دیا۔اب تمام معاملہ اس بحث میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ کس نے ابو لُؤْلُون کو حضرت عمرؓ کے قتل کرنے پر اکسایا تھا اور لکھنے والے یہ لکھتے ہیں کہ جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں اور جو اس حق میں ہیں کہ حضرت عمر کا قتل ایک سازش تھی۔ھر ھمران نے یہ ساری منصوبہ بندی کی تھی کہ اس نے حضرت عمرؓ کے خلاف ابولولوة کے کینہ اور بغض کو مزید بھڑ کا یا۔وہ دونوں عجمی تھے پھر یہ کہ جب هرمزان کو قید کر لیا گیا اور اسے مدینہ بھیج دیا گیا تو اس نے اس اندیشہ کے پیش نظر اسلام قبول کر لیا کہ خلیفہ اسے قتل کر دیں گے۔طبقات ابن سعد میں نافع کی روایت میں مذکور ہے کہ عبد الرحمن بن عوف نے وہ چھری دیکھی تھی جس کے ساتھ حضرت عمرؓ کو شہید کیا گیا تھا اور سعید بن مسیب کی روایت طبری میں مذکور ہے کہ عبد الرحمن بن ابی بکڑ نے وہ خنجر دیکھا تھا جو ابولولوة، جُفّینہ اور ھر مُزان کے درمیان گر گیا تھا۔جب وہ اچانک ان کے پاس آئے تھے تو وہ ان کے چلنے کی وجہ سے گر گیا تھا۔جب حضرت عبید اللہ بن عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر سے یہ بات سنی تو وہ فورآ گئے اور ان دونوں کو قتل کر دیا اور انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے جذبہ انتقام سے مغلوب ہو کر ابو لولوہ کی بیٹی کو بھی قتل کر دیا۔وہ خنجر جس کے متعلق حضرت عبد الرحمن بن ابی بکڑ نے بتایا تھا وہ بالکل وہی تھا جس کے ذریعہ حضرت عمر کو شہید کیا گیا تھا۔اگر حضرت عبید اللہ بن عمر هرمزان اور جینہ کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرتے تو اس بات کا امکان تھا کہ ان دونوں کو معاملہ کی تحقیق کے لیے بلایا جاتا اور اس طرح یہ سازش آشکار ہو جاتی۔اگر ان سب چیزوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح سمجھی جا سکتی ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی چیزوں کو تو یہ جاسکتی سازش تھی اور جس نے اس سازش کو عملی جامہ پہنایا اور حضرت عمر کو قتل کیا وہ ابو لولوہ تھا۔یہ سازش کے حق میں کہنے والے کہتے ہیں۔385