اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 180
اصحاب بدر جلد 3 180 حضرت عمر بن خطاب خلاف، اس کے الٹ ایک نئے طریقے سے فوج کو سامنے کھڑا کیا۔اور فوج جو تیس پینتیس ہزار تھی اس کے چھتیں حصے کیے اور آگے پیچھے نہایت ترتیب کے ساتھ اس قدر صفیں قائم کیں۔قلب ابوعبیدہ کو دیا، میمنہ پر عمر و بن عاص اور شُرحبیل مامور ہوئے ، میسرہ یزید بن ابو سفیان کی کمان میں تھا۔ان کے علاوہ ہر صف پر الگ الگ جو افسر متعین کیے تو چن کر ان لوگوں کو کیا جو بہادری اور فنونِ جنگ میں شہرت عام رکھتے تھے۔خطباء جو اپنے زور کلام سے لوگوں میں ہلچل ڈال دیتے تھے ، ایسے خطیب تھے جو لوگوں میں جوش پیدا کرنے والے تھے اس خدمت پر مامور ہوئے کہ پرجوش تقریروں سے فوج کو جوش دلائیں۔انہی میں ابو سفیان بھی تھے جو فوجوں کے سامنے یہ الفاظ کہتے پھرتے تھے کہ اللہ ! اللہ ! تم لوگ عرب کے محافظ اور اسلام کے مددگار ہو اور وہ لوگ روم کے محافظ اور شرک کے مددگار ہیں۔اے اللہ ! یہ دن تیرے ایام میں سے ہے۔اے اللہ ! اپنے بندوں پر اپنی مد د نازل فرما۔عمر و بن عاص کہتے پھرتے تھے کہ اے لوگو! اپنی آنکھیں نیچی رکھو اور گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ اور اپنے نیزوں کو تان لو اور اپنی جگہ اور اپنی صفوں میں جم جاؤ۔جب تمہارا دشمن تم پر حملہ آور ہو تو انہیں مہلت دو یہاں تک کہ جب وہ نیزوں کی انیوں کی زد میں آجائے تو ان پر شیروں کی طرح جھپٹ پڑو۔اس خدا کی قسم ! جو راستی پر خوش ہوتا ہے اور اس پر ثواب دیتا ہے اور جو جھوٹ سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے اور احسان کی جزا دیتا ہے، یقینا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ مسلمان بستی کے بعد بستی اور محل کے بعد محل کو فتح کرتے ہوئے اس ملک پر فتح حاصل کریں گے۔پس ان لوگوں کی جمعیت اور ان کی تعداد تمہیں خوف زدہ نہ کرے۔اگر تم لوگوں نے ثابت قدمی سے لڑائی کی تو یہ لوگ حجل یعنی تیتر جو ایک پرندہ ہے اس کے بچوں کی طرح خوف زدہ ہو کر منتشر ہو جائیں گے۔مسلمان فوج کی تعداد اگرچہ کم تھی یعنی تیس پینتیس ہزار سے زیادہ آدمی نہ تھے لیکن تمام عرب میں منتخب تھے۔ان میں سے خاص وہ بزرگ جنہوں نے رسول اللہ صلی الہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا تھا ایک ہزار تھے۔سو بزرگ وہ تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی ال نیم کے ہمرکاب تھے۔عرب کے مشہور قبائل میں سے دس ہزار سے زیادہ صرف آزد کے قبیلے کے لوگ تھے۔جہیز کی ایک بڑی تعداد، جماعت تھی۔هَمْدَان ، خَوْلَان لَحْم ، جزام وغیرہ کے مشہور بہادر تھے۔اس معرکے کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ عورتیں بھی اس میں شریک تھیں اور نہایت بہادری سے لڑیں۔امیر معاویہ کی ماں، ابوسفیان کی بیوی ہند ، حضرت ہند جو بعد میں اسلام لے آئی تھیں حملہ کرتی ہوئی بڑھتی تھیں تو پکارتی تھیں کہ تم ان نا مختونوں یعنی ان کافروں کو اپنی تلواروں سے کاٹ کر رکھ دو۔اسی طرح ابوسفیان کی بیٹی اور امیر معاویہ کی بہن جویریہ نے ایک جماعت کے ساتھ نکل کر ، اپنے شوہر کے ساتھ مل کر رومی فوج کا مقابلہ کیا اور ایک شدید لڑائی میں شہید ہو گئیں۔مقداد جو نہایت خوش آواز تھے فوج کے آگے آگے سورہ انفال جس میں جہاد کی ترغیب ہے تلاوت کرتے جاتے تھے۔ادھر رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ تیس ہزار