اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 159
اصحاب بدر جلد 3 159 حضرت عمر بن خطاب بالکل ہی کسی کام کا نہیں چھوڑا اور ہر جگہ دنیا میں بدنام ہو رہے ہیں۔حضرت عثمان بن ابو العاص نے فتح کے دن فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں ہر قسم کی برائیوں سے بچاتا ہے اور ان کے اندر امانت اور دیانت داری کی خصوصیات پیدا فرما دیتا ہے۔اس لیے تم امانتوں کی حفاظت کرو کیونکہ تم سے اپنے دین و مذہب کی جو چیز سب سے پہلے چھوٹے گی وہ ہے امانت۔اور جب تمہارے اندر سے دیانت داری جاتی رہے گی تو روزانہ کوئی نہ کوئی نیکی تمہارے اندر سے جاتی رہے گی۔دیانتداری گئی تو نیکیاں بھی ختم ہونی شروع ہو جائیں گی۔حضرت عمر فاروق کے دورِ خلافت کے آخری زمانے اور حضرت عثمان کے دور خلافت کے پہلے سال شهرک نے بغاوت کر دی اور اس نے اہل فارس کو ورغلایا اور ان کو بھڑ کانے کے نتیجہ میں اہل فارس کر نے عہد شکنی کی۔حضرت عثمان بن ابو العاص کو ان کی سرکوبی کے لیے دوبارہ بھیجا گیا اور پیچھے سے حضرت عبد اللہ بن معمر اور شبل بن معبد بجلی کی معیت میں امدادی فوج بھیجی گئی۔ان کا فارس کے مقام پر دشمن سے سخت مقابلہ ہوا جس میں شَهْرَك اور اس کا بیٹا مارا گیا اور اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کو بھی قتل کیا گیا اور شهرک کو حضرت عثمان بن ابو العاص کے بھائی محکم بن ابو العاص نے قتل کیا۔287 ایک روایت کے مطابق حضرت علاء بن حضرمی نے سترہ ہجری میں حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ اضطغر کو فتح کیا تھا۔اس کے باشندوں نے صلح کے بعد بد عہدی کی جس کے نتیجہ میں بغاوت پھیل گئی۔اس کی سرکوبی کے لیے حضرت عثمان بن ابو العاص نے اپنے بیٹے اور بھائی کو بھیجا جنہوں نے بغاوت دور کی اور اضط نحر کے امیر کو قتل کر دیا جس کا نام شهرك تھا۔288 فَسَا اور دار الجرد حضرت ساريه بن زنیم کو حضرت عمرؓ نے فسا اور دارا بجرد شہر کی طرف روانہ فرمایا۔23 ہجری کا واقعہ ہے۔فسا فارس کا ایک قدیم شہر تھا جو شیر از سے 216 میل کے فاصلے پر واقع تھا۔دارا بجز د فارس کا ایک وسیع علاقہ ہے جس میں فسا اور دیگر شہر تھے۔دلائل النبوۃ میں روایت ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک لشکر حضرت ساریہ کی سر کردگی میں روانہ فرمایا۔ایک دن جبکہ حضرت عمر خطاب کر رہے تھے کہ اچانک اونچی آواز میں کہنے لگے یا ساری انجیل۔اے ساریہ ! پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔تاریخ طبری میں ہے حضرت عمرؓ نے حضرت ساریہ بن زنیم کو فسا اور دارا بجز د کے علاقے کی طرف روانہ کیا۔انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کا محاصرہ کر لیا۔اس پر انہوں نے اپنے حمایتی لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا تو وہ مسلمان لشکر کے مقابلے کے لیے صحرا میں اکٹھے ہو گئے اور جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی تو انہوں نے ہر طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا۔حضرت عمرؓ جمعہ کے دن