اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 148
اصحاب بدر جلد 3 148 حضرت عمر بن خطاب لے کر اس مقام پر آگئے جہاں نعمان تھے اور اس جگہ جھنڈ ابلند کر دیا گیا اور حضرت مغیرہ کے مشورہ کے مطابق لڑائی کا نتیجہ نکلنے تک حضرت نعمان کی وفات کو مخفی رکھا گیا۔263 264 اخبار الطوال میں لکھا ہے کہ حضرت نعمان بن مقرن "جب زخمی ہو کر گرے تو ان کے بھائی انہیں اٹھا کر خیمہ میں لے گئے اور ان کا لباس خود پہن لیا اور ان کی تلوار لے کر ان کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اکثر لوگوں کو یہی غلط فہمی رہی کہ یہ حضرت نعمان ہیں۔مؤرخ طبری نے نہایت نازک مرحلے پر امیر کے حکم کی اطاعت کی عمدہ مثال لکھی ہے۔حضرت نعمان نے اعلان کر دیا تھا کہ اگر نعمان بھی قتل ہو جائے تو کوئی شخص لڑائی چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ نہ ہو بلکہ دشمن سے مقابلہ جاری رکھے۔معقل کہتے ہیں کہ جب حضرت نعمان گرے تو میں آپ کے پاس آیا پھر مجھے آپ کا حکم یاد آیا اور میں واپس چلا گیا۔265 اور لڑائی شروع کر دی۔بہر حال لڑائی دن بھر بڑے زور سے جاری رہی مگر رات ہوتے ہی دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور ایرانیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔266 معْقِل کہتے ہیں کہ فتح کے بعد میں حضرت نعمان کے پاس آیا۔ان میں رمق باقی تھی۔تھوڑی سی سانس لے رہے تھے۔میں نے ان کا چہرہ اپنی چھا گل سے دھویا۔آپ نے میر انام پوچھا اور دریافت کیا کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارت ہو۔آپ نے فرمایا الحمد للہ عمر کو اطلاع کر دو۔267 حضرت عمر نہایت شدت سے لڑائی کے نتیجہ کے منتظر تھے۔جس رات لڑائی کی توقع تھی وہ رات حضرت عمر نے نہایت بے چینی سے جاگ کر گزاری۔208 راوی کہتے ہیں کہ اس تکلیف سے دعا میں مصروف رہے کہ معلوم ہوتا کہ کوئی حاملہ عورت تکلیف میں ہے۔قاصد فتح کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچا۔حضرت عمر نے الحمد للہ کہا اور نعمان کی خیریت پوچھی۔قاصد نے ان کی وفات کی خبر سنائی تو حضرت عمر کو سخت صدمہ ہوا۔269 اور سر پہ ہاتھ رکھ کر روتے رہے۔270 قاصد نے دوسرے شہداء کے نام سنائے اور کہا کہ امیر المومنین! اور بھی بہت سے مسلمان شہید ہوئے ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے۔حضرت عمر روتے ہوئے بولے، عمر انہیں نہیں جانتا تو انہیں اس کا کوئی نقصان نہیں خدا تو ا نہیں جانتا ہے۔271 گو مسلمانوں میں غیر معروف ہیں مگر خدا نے ان کو شہادت دے کر معزز کر دیا ہے۔اللہ ان کو پہچانتا ہے۔عمر کے پہچاننے سے انہیں کیا غرض۔معرکے کے بعد مسلمانوں نے هَمَذَان تک دشمنوں کا تعاقب کیا۔یہ دیکھ کر ایرانی سردار خشتر و شَنُوم نے هَمَذَان اور دستینی کے شہروں کی طرف سے اس ضمانت پر مصالحت کر لی کہ ان شہروں سے مسلمانوں پر حملہ نہیں ہو گا۔اسلامی لشکر نے شہر بہاؤند پر قبضہ کر لیا۔272