اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 146
حاب بدر جلد 3 146 حضرت عمر بن خطاب ان حالات کو دیکھ کر اسلامی لشکر کے سپہ سالار نعمان بن مقرن نے ایک مشورے کی مجلس منعقد کی جس میں لشکر کے تجربہ کار اور باتد بیر لوگوں کو بلوایا اور ان کو مخاطب ہو کر بولے۔آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دشمن اپنے قلعوں، خندقوں اور عمارتوں کی وجہ سے محفوظ بیٹھا ہوا ہے۔جب اس کی مرضی ہوتی ہے باہر نکلتا ہے اور مسلمان اس وقت اس سے لڑائی نہیں کر سکتے جب تک خود اس کی مرضی باہر نکل کر مقابلہ کرنے کی نہ ہو۔259 ادھر دشمن کو امدادی کمک بھی مسلسل مل رہی ہے۔200 انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان اس صورت حال سے کس مشکل میں مبتلا ہیں۔اب کیا طریق اختیار کیا جائے کہ دیر کیے بغیر ہم دشمن کو کھلے میدان میں آکر مقابلہ کے لیے مجبور کر دیں۔سپہ سالار کی اس بات کو سن کر اس مجلس میں سب سے عمر رسیدہ شخص عمرو بن نینی بولے۔وہ قلعوں میں محصور ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن قلعوں میں محصور ہے اور محاصرہ لمبا ہو رہا ہے اور یہ امر اسلامی لشکر کی نسبت دشمن پر زیادہ گراں اور تکلیف دہ ہے۔اس لیے آپ اس طرح چلنے دیجیے اور محاصرہ لمبا کرتے چلے جائیں۔ہاں ان میں جو لڑنے نکلتے ہیں ان سے مقابلہ جاری رکھا جائے مگر عمر و بن چینی کی یہ تجویز مجلس نے منظور نہ کی۔اس کے بعد عمرو بن معدیکرب نے کہا گھبرانے اور ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔پوری طاقت سے آگے بڑھ کر دشمن پر حملہ کیا جائے مگر یہ تجویز بھی رڈ کر دی گئی۔تجربہ کاروں نے یہ اعتراض کیا کہ آگے بڑھ کر حملہ کرنے کی صورت میں ہمیں انسانوں سے مقابلہ نہیں کرنا پڑتا بلکہ دیواروں سے ٹکر لینی پڑتی ہے۔یہ دیوار میں ہمارے خلاف دشمن کو مدد دیتی ہیں۔یعنی قلعہ میں بند ہیں۔دشمن تو سامنے نہیں ہے۔اس پر طلیعه کھڑے ہوئے اور بولے میرے نزدیک ان دونوں صاحبوں کی رائے درست نہیں ہے۔میری رائے یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا رسالہ دشمن کی طرف بھیجا جائے جو قریب جا کر تیر اندازی کر کے کچھ لڑائی ہے بھڑ کانے کی صورت پیدا کرے۔اس رسالے کے مقابلہ کے لیے دشمن باہر نکلے گا اور ہمارے رسالے کا مقابلہ کرے گا۔اس صورت میں ہمارا رسالہ پیچھے ہٹنا شروع کر دے اور یہ ظاہر کرے گویاوہ شکست کھا کر بھاگ رہا ہے۔امید ہے کہ دشمن فتح کی طمع میں باہر نکلے گا اور جب وہ باہر کھلے میدان میں آجائے تو ہم اس سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔261 حضرت نعمان نے یہ تجویز منظور کرلی اور اسے حضرت قعقاع کے سپر د کیا کہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنائیں۔انہوں نے طلیحہ کی تجویز پر عمل کیا اور بعینہ ویسا ہی ظہور میں آیا جو طلیحہ کا خیال تھا۔قعقاع آہستہ آہستہ شکست کھا کر ہٹتے چلے گئے اور دشمن کا لشکر فتح کے نشے میں بڑھتا چلا آیا حتی کہ سب اپنے قلعوں سے باہر نکل آئے۔صرف دروازوں پر مقرر کردہ پہرے دار، پہرہ دینے والے سپاہی اپنے محفوظ مقامات میں اندر رہ گئے۔دشمن کی فوج اپنی مستحکم پوزیشنوں سے باہر آکر بڑھتے بڑھتے اصل اسلامی لشکر سے اس قدر قریب آگئی کہ اس کے تیروں سے بعض مسلمان زخمی ہو گئے مگر حضرت نعمان