اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 131

اصحاب بدر جلد 3 131 حضرت عمر بن خطاب بلاذری نے ماسبذان کی فتح کے بارے میں مختلف روایات لی ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے نہاوند کے معرکے سے واپسی پر اس شہر کو بغیر لڑائی کے فتح کیا تھا۔218 خُوزستان کی فتوحات کا حال یوں بیان ہوا ہے۔خُوزستان ایران کا ایک صوبہ ہے۔ھرمزان اسلام قبول کرنے سے پہلے اسی صوبہ کا گورنر تھا۔اس علاقے اور اس علاقے کے مکینوں کو خُوذ کہا جاتا تھا۔اس سے مراد خُوزستان کے رہنے والے اہواز کے نواح میں فارس اور بصری اور واسط اور اصفہان کے پہاڑوں کے در میان کا علاقہ ہے۔114 ہجری میں حضرت عمرؓ نے فوجی نقطہ نظر سے بعض فوائد دیکھ کر عراق میں چھوٹے پیمانے پر ایک دوسر ا فرنٹ کھول دیا اور عُتبہ بن غزوان کی سر کردگی میں ایک چھوٹا سا لشکر اس مقام کی طرف روانہ فرمایا جہاں ابتداء اس لشکر کے لیے بطور چھاؤنی شہر بصرہ کی داغ بیل ڈالی۔یہ لشکر نہ صرف ارد گرد کے دشمن کے علاقوں پر فتح حاصل کر رہا تھا بلکہ عراقی جنگی مہم میں اس رنگ میں مفید ہو رہا تھا کہ نواح کی ایرانی افواج اعلیٰ اور بڑے محاذ پر اپنے ساتھیوں کی مسلسل شکستوں کی خبریں سن کر بھی ان کی امداد کے لیے نہ جاسکتی تھیں۔زیادہ مقصد یہی لگتا ہے فوج یہاں بٹھانے کا، اس رستہ پر قبضہ کرنے کا، کہ ایرانی افواج کی کمک اور مد دوہاں نہ جائے اور وہ مسلمانوں پر حملے نہ کرتے رہیں۔اس لشکر کے امیر حج کرنے اور حضرت عمرؓ سے ملاقات کی غرض سے واپس حجاز گئے تھے اور حضرت عمر نے آپ کی غیر حاضری میں اس لشکر کی قیادت حضرت مغیرہ بن شعبہ کو دی تھی۔حضرت مغیرہ بن شعبہ پر جب ایک اخلاقی جرم کا الزام لگایا اور اس کی تحقیقات کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے انہیں معزول کر کے مدینہ بلایا ہوا تھا تو ان کی جگہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کو کمانڈر مقرر کیا تھا۔بہر حال تحقیقات پر حضرت مغیرہ پر جو الزام لگا تھا وہ غلط ثابت ہو ا تھا۔219 روایات میں اختلاف ہے کہ سولہ ہجری یا سترہ ہجری میں اسلامی لشکر کی مصروفیات بھی کافی رہیں اور اس میدان کی جنگی سرگرمیاں بھی وسعت پکڑ گئیں اور مسلمانوں نے خوزستان کے معروف شہر اهواز پر قبضہ کر لیا۔مؤرخ طبری نے سترہ ہجری کے واقعات میں بیان کیا ہے مگر ساتھ ہی لکھا ہے کہ بعض روایات سے اس فتح کا سنہ سولہ ہجری معلوم ہوتا ہے۔اس فتح کے ذکر میں انہوں نے لکھا ہے کہ اس وقت امیر لشکر عُتبہ بن غزوان ہی تھے۔لیکن بلاذری نے جو اس کی وضاحت کی ہے لکھا ہے کہ انواز اور اس کے بعد کی فتوحات حضرت عتبہ بن غزوان کے واپس تشریف لے جانے کے بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کی سر کردگی میں ہوئیں اور لکھا ہے کہ حضرت مغیرہ نے آٹھواز کو فتح کیا۔آھواز کے رئیس پیروز نامی نے پہلے تو مقابلہ کیا مگر پھر مصالحت کر لی۔کچھ عرصہ بعد جب حضرت مغیرہ کی جگہ ابو موسیٰ اشعری بصرہ کے علاقے کے اسلامی لشکر کے امیر مقرر ہوئے تو ہیروز رئیس نے عہد شکنی کر کے بغاوت کر دی۔اس پر حضرت ابو موسیٰ اشعری مقابلے کے لیے نکلے اور لڑائی کے بعد شہر پر قبضہ کر لیا۔یہ واقعہ