اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 119

ناب بدر جلد 3 119 حضرت عمر بن خطاب کچھ نہیں ہے۔دوڑ جاؤ یہاں سے۔پھر اس نے مٹی کا ایک ٹوکر امنگوا کر کہا کہ میری طرف سے یہ لے جاؤ اور اس نے حکم دیا کہ ان قاصدوں کو مدائن کے دروازے سے باہر نکال دو۔عاصم بن عمرو نے وہ مٹی لی اور جا کر حضرت سعد کو دیتے ہوئے کہا کہ خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ملک کی چابیاں عطا کر دی ہیں۔اس واقعہ کے بعد کئی مہینے تک دونوں طرف سکوت رہا۔رستم اپنی فوج کے ساتھ ساباظ میں پڑا رہا اور یزدجرد کی تاکید کے باوجو د جنگ سے جی چراتا رہا۔یزدجرد کو بار بار لوگوں نے کہا کہ ہماری حفاظت کریں ور نہ ہم اہل عرب کے مطیع ہو جائیں گے۔اس پر مجبور ہو کر رستم کو مقابلے کے لیے بڑھنا پڑا اور ایرانی فوجیں ساباط سے نکل کر قادسیہ کے میدان میں خیمہ زن ہوئیں۔رستم جب ساباط سے نکلا تو اس کے لشکر کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی اور اس کے ہمراہ تینتیس ہاتھی تھے۔رستم نے مدائن سے قادسیہ پہنچنے تک چار ماہ کا عرصہ لگایا۔رستم نے قادسیہ میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد اگلی صبح اسلامی لشکر کا جائزہ لیا اور مسلمانوں کو واپس جانے اور صلح کی پیش کش کی۔رستم نے مسلمانوں کو کہا صلح کر لو اور واپس چلے جاؤ جس کا جواب مسلمانوں کی طرف سے یہ دیا گیا کہ ہم دنیا طلبی کے لیے نہیں آئے بلکہ ہمارا مقصد آخرت ہے۔رستم نے مطالبہ کیا کہ اس کے دربار میں مسلمانوں کی طرف سے اچھی مذاکرات کے لیے آئیں۔رستم کے ہ اور قیمتی قالین بچھائے گئے اور مکمل آرائش و زیبائش کا انتظام کیا گیا۔رستم کے لیے سونے کا تخت بچھایا گیا اور اس پر قالین بچھا کر اور سونے کے دھاگوں سے تیار کردہ تکیے لگا کر خوب مزین کیا گیا۔مسلمانوں کی جانب سے سب سے پہلے حضرت ربعی بن عا مر گئے۔وہ رستم کی طرف اس حال میں گئے کہ اپنے نیزے کا سہارا لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے رہے جس سے نیزے کی نوک سے قالین اور گدے پھٹتے چلے جاتے تھے۔وہ رستم کے پاس پہنچے اور نیچے بیٹھ کر اپنا نیزہ قالین میں گاڑ دیا۔حضرت ربعی نے تین باتیں رستم کے سامنے رکھیں کہ (۱) آپ لوگ اسلام لے آئیں ہم آپ کا پیچھا چھوڑ دیں گے اور آپ کے ملک سے بھی ہمیں کوئی سروکار نہیں ہو گا۔پھر ٹھیک ہے ملک کو سنبھالو۔(۲) ہمیں جزیہ دیں جسے قبول کر کے ہم آپ کی حفاظت کریں گے۔جزیہ دے دو تو پھر ہم تمہاری حفاظت بھی کریں گے۔(۳) اگر کوئی بھی صورت منظور نہ ہو تو پھر چوتھے دن آپ سے لڑائی ہو گی۔ان تین دنوں میں ہماری طرف سے جنگ کی ابتدا نہیں ہو گی۔لیکن یہ بھی ہے کہ چوتھے دن لڑائی تو ہو گی لیکن ان تین دنوں میں ہماری طرف سے جنگ کی ابتدا نہیں ہو گی۔لیکن اگر آپ لوگوں نے جنگ شروع کر دی تو پھر ہم لڑنے پر مجبور ہوں گے۔اگلے روز حضرت سعد نے حذیفہ بن مخھین کو بھجوایا۔انہوں نے بھی حضرت ربعی والی تینوں باتیں دہرائیں۔تیسرے روز حضرت مغیرہ بن شعبہ گئے۔جب انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں اپنے پہلے دونوں ساتھیوں کی مانند اسلام، جزیہ اور قتال کا ذکر کیا تور ستم نے کہا تب ضرور تم لوگ مرو گے۔اس پر حضرت مغیرہ نے کہا جو ہم میں سے قتل ہو گا وہ جنت میں جائے گا اور جو تم میں سے قتل ہو گا وہ جہنم میں جائے گا اور جو ہم میں سے زندہ رہیں گے وہ تم لوگوں پر کامیاب رہیں گے۔حضرت مغیرہ کی بات سن کر