اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 100

اصحاب بدر جلد 3 100 حضرت عمر بن خطاب جسے وہ تاریخ کہتے ہیں۔وہ اسے یوں لکھتے ہیں کہ فلاں سال اور فلاں مہینہ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ عمدہ طریق ہے۔تم بھی تاریخ لکھو۔ہجری تقویم کا آغاز ، اس کیلنڈر کا آغاز کس نے کیا؟ اس بارے میں متفرق آرا ہیں۔پہلے قول کے مطابق نبی کریم صلی الیکم نے تاریخ مرتب کرنے کا ارشاد فرمایا اور ربیع الاول میں تاریخ لکھی گئی۔چنانچہ حاکم نے اپنی کتاب الاکلیل میں ابن شہاب زہری سے روایت کی ہے کہ أَنَّ النَّبِيُّ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَ بالتاريخ فكتب في ربيع الأول۔جب نبی کریم صلی علی المدینہ تشریف لائے تو آپ نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا۔پس وہ ربیع الاول میں لکھی گئی۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ روایت مُغضّل ہے۔معضل سے مراد وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں پے در پے دو یا زیادہ راوی ساکت ہوں۔ایک اور روایت میں ہے کہ تاریخ کی ابتدا اس دن سے ہوئی جس دن رسول کریم صلی علیہ کی ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے اور مشہور بات اس کے بر عکس ہے اور وہ یہ کہ تاریخ تقویم ہجری حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں قائم ہوئی۔سُبُلُ الْهُدَى وَ الرَّشاد في سِيرَةِ خَيْرِ الْعِبَاد کے مصنف محمد بن یوسف صالحی کہتے ہیں کہ ابن صلاح نے کہا ہے کہ انہوں نے ابو طاہر قخیش کی کتاب الشروط میں یہ لکھا ہوادیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ یکم نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا تھا کیونکہ جب آپ نے نجران کے عیسائیوں کی طرف خط لکھنے کا ارشاد فرمایا تو حضرت علیؓ سے فرمایا اس میں لکھو لخمس من الهِجْرَةِ۔یعنی ہجرت کے بعد پانچواں سال۔پس اس لحاظ سے پہلے مؤرخ رسول اللہ صلی علیہ کم ہیں اور حضرت عمر نے اس میں آپ صلی علیہ کم کی اتباع کی ہے۔دوسرے قول کے مطابق حضرت یعلی بن امیہ نے تاریخ کا آغاز کیا جو یمن کے رہنے والے تھے۔امام احمد نے اس کو بیان کیا ہے لیکن اس میں انقطاع ہے یعنی عمر و اور یعلیٰ کے درمیان میں۔تیسرے اور مشہور قول کے مطابق یہ ہے کہ تاریخ تقویم ہجری کا آغاز حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ہجری کیلنڈر کے لیے ہجرت سے کیوں آغاز کیا گیا؟ اس بارے میں یہ تفصیل ملتی ہے۔جب حضرت عمر نے سال کی تعیین کے لیے مشورہ مانگا تو ایک رائے یہ تھی کہ نبی کریم صلی الم کی پیدائش سے اس کا آغاز کیا جائے۔دوسری رائے یہ تھی کہ آپ کے مبعوث ہونے کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔تیسری رائے یہ تھی کہ آپ کی وفات کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔چوتھی رائے یہ تھی کہ آپ کی ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کرنا مناسب سمجھا گیا کیونکہ ولادت اور بعثت کے سال کی تعیین میں اختلاف تھا۔جہاں تک وفات کا تعلق ہے تو اس لیے منتخب نہیں کیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ ان کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں کے رنج والم کا عصر اس میں شامل تھا۔پس صحابہ نے ہجرت پر اتفاق کیا۔صحابہ نے ربیع الاول کی بجائے محرم سے سال کا آغاز کیوں کیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی املی یکم نے ہجرت کا عزم محرم کے مہینہ میں ہی کر لیا تھا۔ذوالحجہ میں بیعت عقبہ ثانیہ ہو چکی تھی اور وہی ہجرت کا سة الله