اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 78

حاب بدر جلد 3 78 حضرت عمر بن خطاب ہی ہیں۔یہ سن کر اس نے جلدی سے طواف کیا اور سیدھا حضرت عمر کی مجلس میں پہنچا اور پوچھا کہ اگر کوئی بڑا آدمی کسی چھوٹے آدمی کو تھپڑ مار دے تو آپ کیا کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہی کرتے ہیں کہ اس کے منہ پر اس چھوٹے شخص سے تھپڑ مرواتے ہیں۔وہ کہنے لگا کہ آپ میرا مطلب سمجھے نہیں۔میر امطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بہت بڑا آدمی تھپڑ مار دے تو پھر آپ کیا کیا کرتے ہیں ؟ 146 آپ نے فرمایا: اسلام میں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔پھر آپ نے کہا: جبلہ ! تم ہی تو یہ غلطی نہیں کر بیٹھے ؟ اس پر اس نے جھوٹ بول دیا اور کہا کہ میں نے تو کسی کو تھپڑ نہیں مارا۔میں نے تو صرف ایک بات پوچھی ہے مگر وہ اسی وقت مجلس سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر اپنے ملک کی طرف بھاگ گیا اور اپنی قوم سمیت مرتد ہو گیا اور مسلمانوں کے خلاف رومی جنگ میں شامل ہوا لیکن حضرت عمر نے اس کی پروا نہیں کی۔145 یہ وہ مساوات تھی جو اسلامی حکومت نے قائم کی اور آج کی اسلامی حکومتوں کے لیے بھی یہ سبق ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔حضرت عمرؓ کے متعلق ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی ال نیم کے ایک ارشاد کے ماتحت جب یہودیوں اور عیسائیوں کو یمن سے نکالا تو آپ نے ان کی زمینیں ضبط نہیں کیں بلکہ ان کی زمینیں خریدیں۔مزید فرماتے ہیں کہ یمن کی زمین جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نیچے تھی وہ خراجی تھی لیکن جب حضرت عمرؓ نے وہ زمین یہودیوں اور عیسائیوں سے لے لی اور ان کو عرب کے جزیرے سے نکال دیا تو باوجود اس کے کہ وہ زمین خراجی تھی اور اصولی طور پر حکومت اس کی مالک سمجھی جاتی تھی انہوں نے وہ زمین ان سے چھینی نہیں بلکہ خریدی۔چنانچہ فتح الباری شرح بخاری میں یہ حدیث درج ہے کہ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ أَنَّ عُمَرَ أَجْلِى أَهْلَ نَجْرَانَ وَالْيَهُودَ وَالنَّصَارَى وَاشْتَرَى بَيَاضَ أَرْضِهِمْ وَكُرُومَهُمْ یعنی یحیی بن سعید روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے نجران کے مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کو وہاں سے جلاوطن کر دیا اور ان کی زمینیں اور باغ خرید لیے۔یہ ظاہر ہے کہ یہودیوں کی زمین عشری نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر وہ عشری تھی تو اس کا مالک کوئی مسلمان ہو گا۔پس یہودیوں سے اس کے خریدنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔وہ یقیناً خراجی تھی جیسا کہ ہندوستان کی زمین کو خراجی قرار دیا جاتا ہے لیکن حضرت عمرؓ نے اس کو خراجی قرار دے کر اور حکومت کو اس کا مالک قرار دے کر اس کو ضبط نہیں کیا بلکہ اس کو خریدا۔شاید کوئی کہے کہ یہ زمین نہ خراجی ہو گی نہ عشری بلکہ کسی اور قسم کی ہو گی تو یہ خیال بیہودہ ہو گا اور اسلامی شریعت سے ناواقفی کی علامت ہو گا۔عشری اور خراجی کے سوا اور کوئی زمین اسلام میں نہیں سوائے اس کے کہ وہ بے کار پڑی ہوئی ہو اور اس کا مالک کوئی فرد واحد نہ ہو۔پس لازما یہودی اور نصرانی اور مشرک اہل نجران کی زمینیں یا خراجی تھیں یا عشری تھیں مگر دونوں صورتوں میں ان کا مالک حضرت عمرؓ نے ان کے قابضوں کو قرار دیا اور ان سے وہ