اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 51
اصحاب بدر جلد 3 51 ،، حضرت عمر بن خطاب بیان کرتا ہوں کہ "لا تَضِلُّوا بَعْدَهُ “ یہ الفاظ جو حدیث میں ہیں۔یہ امر واضح کر دیا ہے کہ آخری وقت میں بھی آنحضرت صلی الی یم کو اس بات کی فکر رہی۔لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ۔کہ کہیں تم بھول نہ جاؤ۔تحریر لکھ دوں۔ضلال کے معنی بھولنا بھی ہوتے ہیں ”بھول کر راہ سے بے راہ ہو جانا“ بھی ہیں۔” غَلَبَهُ الوجع یعنی آپ کو بیماری نے نڈھال کر دیا ہے کہیں تکلیف بڑھ نہ جائے۔عمرؓ نے جو بات کی تھی یہ اس کے الفاظ ہیں۔شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ”آپ کے فوت ہو جانے کا تو وہم بھی حضرت عمرؓ کو نہیں تھا۔عندَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا - حضرت عمرؓ نے جب یہ کہا تھا تو ” یہ اس لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ما فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَى (انعام: 39) یہ سورت انعام میں ہے اور پھر ” تِنْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (انحل: 90) یعنی یہ کتاب ہر بات کو واضح کر کے بیان کرتی ہے۔ہم نے اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔“ پھر لکھتے ہیں کہ لَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَارُعُ یعنی بعض لوگ جن کے جذبات حضرت عمر کی طرح رقیق تھے انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں تکلیف نہیں دینی چاہئے اور بعض نے کہا کہ حکم کی تعمیل کرنی چاہئے “آنحضرت علی الیم نے جو فرمایا تو لے آؤ قلم دوات۔”مگر آنحضرت صلی لی ہم نے ان کو چلے جانے کا حکم دیا جب آپس میں بحث شروع ہو گئی اور فرمایا کہ میرے پاس شور نہ کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کتاب اللہ کی قلم، دوات عزت کا اس حالت بیقراری میں بھی اس قدر پاس تھا کہ حضرت عمرؓ کی بات سننے کے بعد کاغذ ، منگوانے کا ارادہ نہیں فرمایا جیسا کہ بخاری کی دوسری روایتوں سے معلوم ہو گا کہ آپ اس واقعہ کے بعد بھی چند روز زندہ رہے اور اس دن کچھ اور وصیتیں بھی کی ہیں مگر اس خیال کا اعادہ نہیں فرمایا “ یعنی اس بات کو دوبارہ نہیں فرمایا ” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن احکام کے لکھوانے کی ضرورت سمجھی تھی وہ کتاب اللہ میں موجود تھے۔گویا کہ قرآن مجید سے چمٹے رہنے کی تاکید فرمانا چاہتے تھے اور آپ نے حضرت عمر کی تائید کی اور خاموش ہو رہے۔یہ وہ ادب ہے جس کی پر و نام نہاد علماء کو نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی علیکم کا قرآن کریم کا یہ ادب تھا جس کی پروا نام نہاد علماء کو نہیں ہوتی۔شاہ صاحب آگے لکھتے ہیں۔”ایک رائے کا جو اظہار کر بیٹھیں تو پھر وہ اسے وحی الہی کی طرح سمجھتے ہیں۔“ پھر لکھتے ہیں کہ ” ہمیں اس پاکیزہ نمونہ کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے“ جو آنحضر لی ایم کا پاکیز نمونہ تھا۔”کتاب اللہ کے سامنے سب دوسری باتیں کالعدم ہیں۔1024 نبی صلی السلم کی وفات اور حضرت عمر کا جوش دیوانگی عروہ بن زبیر نے نبی صلی املی کام کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی ال تیم فوت ہو گئے اور حضرت ابو بکر اس وقت سُنح میں تھے۔سُنح بھی مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے۔اسماعیل نے کہا یعنی مضافات میں تھے۔جب وفات کی خبر سنی تو حضرت عمر کھڑے ہوئے۔حضرت ابو بکر تو باہر مضافات میں گئے ہوئے تھے لیکن جب وفات کی خبر ہوئی تو یہ خبر سن کر حضرت عمرؓ کھڑے