اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 43
اصحاب بدر جلد 3 43 حضرت عمر بن خطاب یعنی اگر تم اس سال مکہ میں داخل ہو جاتے تو یہ داخلہ امن کا نہ ہو تا بلکہ جنگ اور خون ریزی کا داخلہ ہوتا مگر خدا نے خواب میں امن کا داخلہ دکھایا تھا۔اس لئے خدا نے اس سال معاہدہ کے نتیجہ میں امن کی صورت پیدا کر دی ہے اور اب عنقریب تم خدا کی دکھائی ہوئی خواب کے مطابق امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب آپ نے یہ آیات صحابہ کو سنائیں تو چونکہ بعض صحابہ کے دل میں ابھی تک صلح حدیبیہ کی تلخی باقی تھی وہ حیران ہوئے کہ ہم تو بظاہر ناکام ہو کر واپس جارہے ہیں اور خدا ہمیں فتح کی مبارک باد دے رہا ہے حتی کہ بعض جلد باز صحابہ نے اس قسم کے الفاظ بھی کہے کہ کیا یہ فتح ہے کہ ہم طواف بیت اللہ سے محروم ہو کر واپس جارہے ہیں ؟ آنحضرت صلی علیہ کم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے بہت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ایک مختصر سی تقریر میں جوش کے ساتھ فرمایا: یہ بہت بیہودہ اعتراض ہے کیونکہ غور کیا جائے تو واقعی ی کی صلح ہمارے لئے ایک بڑی بھاری فتح ہے۔قریش جو ہمارے خلاف میدان جنگ میں اترے ہوئے تھے انہوں نے خود جنگ کو ترک کر کے امن کا معاہدہ کر لیا ہے اور آئندہ سال ہمارے لئے مکہ کے دروازے کھول دینے کا وعدہ کیا ہے اور ہم امن و سلامتی کے ساتھ اہل مکہ کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ ہو کر اور آئندہ فتوحات کی خوشبو پاتے ہوئے واپس جارہے ہیں۔پس یقینا یہ ایک عظیم الشان فتح ہے۔کیا تم لوگ ان نظاروں کو بھول گئے کہ یہی قریش احد اور احزاب کی جنگوں میں کس طرح تمہارے خلاف چڑھائیاں کر کر کے آئے تھے اور یہ زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہو گئی تھی اور تمہاری آنکھیں پتھر آگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آتے تھے مگر آج یہی قریش تمہارے ساتھ امن وامان کا معاہدہ کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم سمجھ گئے۔ہم سمجھ گئے۔جہاں تک آپ کی نظر پہنچی ہے وہاں تک حد ہماری نظر نہیں پہنچتی مگر اب ہم نے سمجھ لیا ہے کہ واقعی یہ معاہدہ ہمارے لئے ایک بھاری فتح ہے۔آنحضرت صلی علیم کی اس تقریر سے پہلے حضرت عمرؓ بھی بڑے پیچ و تاب میں تھے۔چنانچہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کی واپسی پر جب کہ آنحضرت صلی علی کی رات کے وقت سفر میں تھے تو اس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت صلی یی کم کو مخاطب کر کے کچھ عرض کرنا چاہا مگر آپ خاموش رہے۔میں نے دوبارہ سہ بارہ عرض کیا مگر آپ بدستور خاموش رہے۔مجھے آنحضرت کی اس خاموشی پر بہت غم ہوا اور میں اپنے نفس میں یہ کہتا ہوا کہ عمر تو تو ہلاک ہو گیا کہ تین دفعہ تو نے رسول اللہ کو مخاطب کیا مگر آپ نہیں بولے۔چنانچہ میں مسلمانوں کی جمعیت میں سے سب سے آگے نکل آیا اور اس غم میں پیچ و تاب کھانے لگا کہ کیا بات ہے؟ اور مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہو جائے۔اتنے میں کسی شخص نے میر انام لے کر آواز دی کہ عمر بن خطاب کو رسول اللہ نے یاد فرمایا ہے۔میں نے کہا کہ بس ہو نہ ہو میرے متعلق کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ میں گھبرایا ہوا جلدی جلدی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کر کے آپ کے پہلو میں