اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 31
اصحاب بدر جلد 3 31 حضرت عمر بن خطاب آگے بڑھ کر تھام لیا مگر چونکہ مصعب نما ڈیل ڈول آنحضرت صلی الیہ کم سے ملتا تھا ابن قمئہ نے سمجھا کہ میں نے محمد صلی علیکم کو مار لیا ہے۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی طرف سے یہ تجویز محض شرارت اور دھوکا دہی کے خیال سے ہو۔بہر حال اس نے مصعب کے شہید ہو کر گرنے پر شور مچادیا کہ میں نے محمد صلی علیہ کم کو مار لیا ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے اور ان کی جمعیت بالکل منتشر ہو گئی۔بہت سے صحابی سراسیمہ ہو کر میدان سے بھاگ نکلے۔اس وقت مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ایک گروہ وہ تھا جو آنحضرت صلی این نام کی شہادت کی خبر سن کر میدان سے بھاگ گیا تھا مگر یہ گروہ سب سے تھوڑا تھا۔لیکن جیسا کہ قرآن شریف میں ذکر آتا ہے اس وقت کے خاص حالات اور ان لوگوں کے دلی ایمان اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔دوسر اگر وہ جو تھا اس گروہ میں وہ لوگ تھے جو بھاگے تو نہیں تھے مگر آنحضرت صلی اللہ یلم کی شہادت کی خبر سن کر یا تو ہمت ہار بیٹھے تھے اور یا اب لڑنے کو بیکار سمجھتے تھے اور اس لیے میدان سے ایک طرف ہٹ کر سر نگوں ہو کر بیٹھ گئے تھے اور تیسر اگر وہ وہ تھا جو برابر لڑ رہا تھا۔ان میں سے کچھ تو وہ لوگ تھے جو آنحضرت صلی اللی علم کے ارد گرد جمع تھے اور بے نظیر جان نثاری کے جوہر دکھا رہے تھے اور اکثر وہ تھے جو میدان جنگ میں منتشر طور پر لڑ رہے تھے۔ان لوگوں اور نیز گروہ ثانی کے لوگوں کو جوں جوں آنحضرت صلی یکم کے زندہ موجود ہونے کا پتہ لگتا جاتا تھا یہ لوگ دیوانوں کی طرح لڑتے بھڑتے آپ کے ارد گرد جمع ہوتے جاتے تھے۔بہر حال اس وقت نہایت خطرناک لڑائی ہو رہی تھی اور مسلمانوں کے واسطے ایک سخت ابتلا اور امتحان کا وقت تھا اور جیسا بیان ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللی علم کی شہادت کی خبر سن کر بہت سے صحابہ ہمت ہار چکے تھے اور ہتھیار پھینک کر میدان سے ایک طرف ہو گئے تھے۔انہی میں حضرت عمرؓ بھی تھے جو مایوس ہو کے ایک طرف ہو کے بیٹھ گئے تھے۔چنانچہ یہ لوگ اسی طرح میدان جنگ کے ایک طرف بیٹھے تھے کہ اوپر سے ایک صحابی آنس بن نظر انصاری آگئے اور ان کو دیکھ کر کہنے لگے کہ تم لوگ یہاں کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی الیوم نے شہادت پائی۔اب لڑنے سے کیا حاصل ہے ؟ انس نے کہا کہ یہی لڑنے کا وقت ہے تا جو موت رسول اللہ صلی علیم نے پائی وہ ہمیں بھی نصیب ہو اور پھر آپ کے بعد زندگی کا بھی کیا لطف ہے ! اور پھر ان کے سامنے سعد بن معاذ آئے تو انہوں نے یعنی حضرت انس نے کہا کہ سعد مجھے تو پہاڑی سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔یہ کہہ کر انس دشمن کی صف میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور جنگ کے بعد دیکھا گیا تو ان کے بدن پر اسی سے زیادہ زخم تھے اور کوئی پہچان نہ سکتا تھا کہ یہ کس کی لاش ہے۔آخر ان کی بہن نے ان کی انگلی دیکھ کر شناخت کیا۔65 الله احد کے وقت رسول اللہ صلی علی کی اپنے چند صحابہ کے ساتھ پہاڑ کی گھاٹی پر پہنچے ہی تھے کہ کفار کے ایک گروہ نے گھائی پر حملہ کیا۔ان میں خالد بن ولید بھی تھا۔حضور صلی ا ہم نے اس وقت دعا کی کہ اللهُمَّ