اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 473 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 473

اصحاب بدر جلد 3 473 حضرت علی یہ دونوں قراء تیں ہیں لیکن میں خاتم النبیین کی قراءت کو زیادہ پسند کرتا ہوں کیونکہ خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کی مہر اور خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں کو ختم کرنے والا۔میرے بچوں کو تاء کی زبر سے پڑھایا کرو۔938 پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں ” حضرت علی کی نسبت بھی ثابت ہو تا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ انہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی علیم کی وفات کے معابعد شروع کر دیا تھا۔939 ایک جگہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کسی صحابی نے کھانے پر بلایا۔بعض صحابہ بھی مدعو تھے جن میں حضرت علی بھی شامل تھے۔آٹے کی عمر نسبتاً چھوٹی تھی“ حضرت علی کی عمر چھوٹی تھی اس لئے بعض صحابہ کو آپ سے مذاق کی سو جھی۔وہ کھجوریں کھاتے جاتے تھے اور گٹھلیاں حضرت علی کے سامنے رکھتے جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح کر رہے تھے۔حضرت علی جوان تھے کھانے میں مصروف رہے اور اس طرف نہیں دیکھا۔جب دیکھا تو گٹھلیوں کا ڈھیر آپ کے سامنے لگا ہوا تھا۔صحابہ نے مذاقا حضرت علی سے کہا تم نے ساری کھجوریں کھالی ہیں !! یہ دیکھو! ساری گٹھلیاں تمہارے آگے پڑی ہیں۔حضرت علی کی طبیعت میں بھی مذاق تھا۔چڑچڑا پن نہیں تھا۔چڑ چڑا پن ہو تا تو آپ صحابہ سے لڑ پڑتے اور کہتے کہ آپ مجھ پر الزام لگاتے ہیں یا مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔حضرت علی سمجھ گئے کہ یہ مذاق ہے جو اُن سے کیا گیا ہے۔“ حضرت علی نے سوچا کہ ”اب میری خوبی یہ ہے کہ میں بھی اس کا جواب مذاق میں دوں۔“ چنانچہ آپ نے فرمایا : آپ سب گٹھلیاں بھی کھا گئے ہیں لیکن میں گٹھلیاں رکھتارہا ہوں کہ آپ سب لوگ جب کھا رہے تھے تو گٹھلیوں سمیت کھجوریں کھا گئے ہیں لیکن میں نے گٹھلیاں رکھی ہوئی ہیں ” اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ گٹھلیوں کا ڈھیر میرے سامنے پڑا ہے۔صحابہ پر یہ مذاق الٹ پڑا۔940 940❝ حضرت مصلح موعود ایک جگہ حضرت علیؓ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ ”حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی للی کم قرآن مجید کی تلاوت فرمارہے تھے کہ حضرت علی نے لقمہ دیا۔نماز کے بعد آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا۔غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لئے میں نے آدمی مقرر کئے ہوئے ہیں۔941 نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے تو کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہو گا اور حضرت علی نے لقمہ دیا تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ میں نے اس کے لیے مقرر کیے ہوئے ہیں تم نہ دو۔حالانکہ حضرت علیؓ بھی کافی عالم تھے۔حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ بیان فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم میں حکم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی مشورہ لو تو پہلے صدقہ دے لیا کرو۔کہتے ہیں حضرت علی نے اس حکم