اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 459
تاب بدر جلد 3 459 حضرت علی رض العاص کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔جو حضرت معاویہ کی طرف گیا تھا اس نے تو حضرت معاویہ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہ صرف معمولی زخمی ہوئے۔وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔جو عمر و بن العاص کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لیے نہ آئے تھے اور جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لیے آیا تھا“ یعنی اس وقت حضرت عمرو بن عاص کی جگہ ”اس نے اس کو مار دیا۔“ جو عمرو بن عاص پہ حملہ کرنے گیا تھا خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔شخص حضرت علی کو مارنے کے لیے نکلا تھا اس نے جبکہ آپ صبح کی نماز کے لیئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطر ناک طور پر زخمی ہوئے۔آپ پر حملہ کرتے وقت اس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علی ! تیر احق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے۔9016 حضرت علی کی شہادت کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمائی تھی۔حضرت عبید اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی الم نے حضرت علیؓ سے فرمایا اے علی ! کیا تم جانتے ہو کہ اولین اور آخرین میں سے سب سے بد بخت شخص کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ پہلوں میں سب سے بدبخت شخص حضرت صالح کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا تھا اور اتے علی ! آخرین میں سب سے بدبخت وہ شخص ہو گا جو تمہیں نیزہ مارے گا اور آپ صلی یم نے اس جگہ کی طرف اشارہ فرمایا جہاں آپ کو نیزہ مارا جائے گا۔حضرت علی کی لونڈی ہم جعفر کی روایت ہے کہ میں حضرت علی کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی کہ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اپنی داڑھی کو پکڑ کر اسے ناک تک بلند کیا اور داڑھی کو مخاطب کر کے فرما یا واہ واہ! تیرے کیا کہنے۔تم ضرور خون میں رنگی جاؤ گی۔پھر جمعہ کے دن آپ شہید کر دیے گئے۔حضرت علی کا واقعہ شہادت ایک جگہ اس طرح بیان ہوا ہے۔ابن حنفیہ روایت کرتے ہیں کہ میں اور حضرت حسن اور حضرت حسین حمام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ابن ملجم آیا۔جب وہ داخل ہوا تو گویا حسنین نے اس سے نفرت کا اظہار کیا اور کہا کہ تیری یہ جرآت کہ اس طرح یہاں ہمارے پاس آئے۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ تم اسے منہ نہ لگاؤ۔قسم سے کہ یہ تمہارے خلاف جو کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔حضرت علی پر حملہ کے وقت ابن ملجم کو قیدی بنا کر لایا گیا تو ابن حنفیہ نے کہا میں تو اسے اس دن ہی اچھی طرح جان گیا تھا جس دن یہ حمام میں ہمارے پاس آیا تھا۔اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ قیدی ہے۔لہذا اس کی اچھی طرح مہمان نوازی کرو اور اسے عزت کے ساتھ ٹھہراؤ۔اگر میں زندہ رہا تو یا تو اسے قتل کروں گا یا اسے معاف کروں گا اور اگر میں مر گیا تو اسے میرے قصاص میں قتل کر دینا اور حد سے نہ بڑھنا۔یقیناً اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔