اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 451

اصحاب بدر جلد 3 451 حضرت علی گے۔انہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علی کے نزدیک خلاف مصلحت تھے۔ان کا خیال تھا حضرت علی کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے کیونکہ اول مقدم اسلام کی حفاظت ہے۔قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی ہرج نہیں۔اسی طرح قاتلوں کے تعین میں بھی اختلاف تھا۔جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علی کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علی ہو بالطبع شبہ نہ ہو تا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں، دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے “ حضرت علی گوان پر شبہ نہیں تھا لیکن باقی کچھ لوگوں کو شبہ تھا۔”اس اختلاف کی وجہ سے طلحہ اور زبیر نے یہ سمجھا کہ حضرت علی اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علی نے پوری نہ کی تھی اس لیے وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔جب حضرت عائشہ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جاملے اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہ اور زبیر نے صرف اکراہ سے “ مجبوری سے ” اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علی کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جب حضرت علی کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی طرف بھیجا۔وہ آدمی پہلے حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے۔اس کے بعد اس شخص نے طلحہ اور زبیر کو بھی بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لیے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہاں۔“ یعنی کہ اصلاح کی وجہ سے۔اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے۔اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔پس یہ تو سلسلہ چلتا جائے گا۔” پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزادی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔“ پہلے حکومت قائم ہو جائے پھر وہ سزا دے گی۔”یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی کا یہی عندیہ ہے تو وہ آجائیں، ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت علی کو اطلاع دی اور طرفین کے قائمقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں، صلح ہونی چاہئے۔جب یہ خبر سبائیوں کو (یعنی جو عبد اللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمان تھے ) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لیے اکٹھی ہوئی۔انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لیے سخت مضر ہو