اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 450

حاب بدر جلد 3 450 حضرت علی کی فوج نے اونٹ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔حضرت عائشہ کا اونٹ گر جانے پر اہل جمل منتشر ہو گئے۔اس کے بعد حضرت علیؓ نے اعلان کرادیا کہ ہتھیار ڈالنے یا گھر کا دروازہ بند کرنے والا امن و امان میں ہے۔کسی کا تعاقب نہ کیا جائے یہ کسی کے مال کو مالِ غنیمت سمجھ کر اس پر دست درازی نہ کی جائے۔حضرت علی کی فوج نے اس حکم کی تعمیل کی۔حضرت زبیر بن عوام اور حضرت طلحہ اسی جنگ میں شہید ہوئے۔891 اس کا ایک حصہ ابن اثیر کی تاریخ سے خلاصہ لیا گیا ہے۔ย حضرت خلیفہ المسیح الثانی اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ”انہی لوگوں کی ایک جماعت نے جو حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھے حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ آپ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کر دیں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں حضرت علی اور حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے لشکر میں جنگ ہوئی۔“ یعنی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر تو حضرت عائشہؓ کے لشکر میں تھے۔حضرت علی کا اور حضرت عائشہ کا جو مین (main) لشکر تھا ان کی جنگ ہوئی۔” جسے جنگ جمل کہا جاتا ہے۔اس جنگ کے شروع میں ہی حضرت زبیر، حضرت علی کی زبان سے رسول کریم ملی ایم کی ایک پیشگوئی سن کر علیحدہ ہو گئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے جنگ نہیں کریں گے اور اس بات کا اقرار کیا کہ اپنے اجتہاد میں انہوں نے غلطی کی۔دوسری طرف حضرت طلحہ نے بھی اپنی وفات سے پہلے حضرت علی کی بیعت کا اقرار کر لیا۔پہلے بھی گذشتہ خطبے میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ وہ زخموں کی شدت سے تڑپ رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا۔انہوں نے پوچھا تم کس گروہ میں سے ہو ؟ اس نے کہا حضرت علی کے گروہ میں سے۔اس پر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ تیرا ہاتھ علی کا ہاتھ ہے اور میں تیرے ہاتھ پر حضرت علی کی دوبارہ بیعت کرتا ہوں۔غرض باقی صحابہ کے اختلاف کا تو جنگ جمل کے وقت ہی فیصلہ ہو گیا مگر حضرت معاویہ کا اختلاف باقی رہا یہاں تک کہ جنگ صفین ہوئی۔892 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مزید فرماتے ہیں کہ ” حضرت عثمان کے قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لیے دوسروں پر الزام لگاتے تھے۔جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علی نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقع مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے ارد گرد حضرت عثمان کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع ہو گئے تھے اس لیے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقع حاصل تھا۔چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت عائشہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے جہاد کا اعلان کریں۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہ کو اپنی مدد کے لیے طلب کیا۔حضرت طلحہ اور زبیر نے حضرت علی کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں