اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 449

اصحاب بدر جلد 3 449 حضرت علی خشیت اللہ بڑھتی رہے۔890❝ یعنی تمہارا مرکز سے تعلق بھی رہے اور خلافت سے تعلق بھی رہے۔یہ رہے گا تو صحیح تربیت بھی رہے گی۔آج کل اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کی صورت مہیا فرمائی ہے۔خطبات ساری دنیا میں سنے جاتے ہیں، دکھائے جاتے ہیں، سنائے جاتے ہیں۔اور پروگرام دکھائے جاتے ہیں اور سنائے جاتے ہیں۔اس لیے تربیت کے لیے بہت ضروری ہے کہ علاوہ اس کے کہ خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کریں۔ایم ٹی اے کے ساتھ بھی تعلق رکھیں اور خاص طور پر جمعے کے خطبات ضرور ایم ٹی اے کے ذریعہ سے سنا کریں تا کہ خلافت سے تعلق قائم رہے اور بہتر ہو تار ہے اور بڑھتار ہے۔جنگ جمل کے واقعہ کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ جنگ جمل حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ کے درمیان 136 ہجری میں ہوئی تھی۔حضرت عائشہ کے ساتھ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی تھے۔حضرت عائشہ میدان جنگ میں ایک اونٹ پر سوار تھیں اسی وجہ سے اس جنگ کا نام جنگ جمل مشہور ہے۔حضرت عائشہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ گئی ہوئی تھیں۔وہ وہیں قیام پذیر تھیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر ملی۔جب عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں تو راستے میں مقام سرف پر عبید بن ابو سلمہ نے اطلاع دی کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے اور حضرت علی خلیفہ منتخب ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں ہنگامہ برپا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ راستے ہی سے مکہ واپس ہو گئیں اور لوگوں کو حضرت عثمان کا قصاص لینے اور فتنے کے خاتمہ کے لیے اکٹھا کیا۔حضرت عائشہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بن عوام کی سرکردگی میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور یہ قافلہ وہاں سے بصرہ کی طرف روانہ ہوا۔حضرت علی نے بھی یہ دیکھ کر بصرہ کا رخ کیا کہ یہ قافلہ ادھر جارہا ہے۔بصرہ پہنچ کر حضرت عائشہ نے اہل شہر کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی۔اہل شہر کی ایک بڑی تعداد حضرت عائشہ کے ساتھ شامل ہو گئی لیکن ایک جماعت نے حضرت علی کے مقرر کردہ بصرہ کے عامل عثمان بن حنیف کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔اس دوران دونوں جماعتوں میں جھڑ پیں بھی ہوئیں۔حضرت علی نے حضرت عائشہ کے لشکر کے قریب پڑاؤ کیا۔حضرت علی کا یہ لشکر بھی پہنچ گیا اور انہوں نے قریب پڑاؤ کیا۔دونوں طرف سے مصالحت کی طرح ڈالی گئی، کوشش کی گئی اور مذاکرات کامیاب بھی ہو گئے مگر عین رات کے وقت وہ گروہ جو حضرت عثمان کے قتل میں شریک تھا اور اس کا ایک حصہ حضرت علی کے لشکر میں بھی شامل تھا۔اس نے حضرت عائشہ کے لشکر پر حملہ کر دیا جس سے جنگ کا آغاز ہو گیا۔حضرت عائشہ اونٹ سوار تھیں۔جاں نثار یکے بعد دیگرے اونٹ کی مہار پکڑتے اور شہید ہوتے جاتے تھے۔حضرت علیؓ نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت عائشہ جب تک اونٹ پر سوار رہیں گی جنگ ختم نہیں ہو گی۔اس لیے آپ نے جنگجوؤں کو حکم دیا کہ اس اونٹ کو کسی نہ کسی طرح مار گر اؤ کیونکہ جنگ کا خاتمہ اس کے گرنے پر منحصر ہے۔اس پر ایک شخص نے آگے بڑھ کر اونٹ کے پاؤں میں تلوار ماری اور وہ بلبلا کر بیٹھ گیا۔حضرت علی