اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 443

اصحاب بدر جلد 3 443 حضرت علی حضرت حسینؓ کے سینے پر ہاتھ مارا اور محمد بن طلحہ اور عبد اللہ بن زبیر کو برا بھلا کہا اور غصہ کی حالت میں وہاں سے آپ گھر لوٹ آئے۔878 شداد بن اوس بیان کرتے ہیں کہ یوم الدار کو جب حضرت عثمان کے محاصرے نے شدت اختیار کرلی۔(یوم الدار اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت عثمان کو باغیوں نے اپنے گھر میں محصور کر کے انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا تھا) تو حضرت عثمان نے لوگوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا اے اللہ کے بندو! راوی کہتے ہیں اس پر میں نے دیکھا کہ حضرت علی اپنے گھر سے باہر نکل رہے ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی علیکم کا عمامہ باندھا ہوا ہے اور اپنی تلوار لٹکائی ہوئی ہے۔ان کے آگے مہاجرین و انصار کا گر وہ تھا جس میں حضرت حسن اور حضرت عبد اللہ بن عمررؓ بھی تھے۔یہاں تک کہ انہوں نے باغیوں پر حملہ کر کے انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔پھر یہ لوگ حضرت عثمان کے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت علی نے عرض کی کہ اے امیر المومنین آپ پر سلامتی ہو۔رسول اللہ صلی الیوم کو دین کی بلندی اور مضبوطی اس وقت حاصل ہوئی جب آپ نے ماننے والوں کو ساتھ لے کر منکرین سے جنگ کی۔بخدا میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ آپ کو ضرور قتل کرنے والے ہیں۔پس آپ ہمیں ان سے لڑائی کرنے کا حکم دیں۔اس پر حضرت عثمان نے فرمایا ہر اس شخص کو جو اللہ کو حق سمجھتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ میرا اس پر حق ہے میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ وہ میری خاطر نہ کسی کا سینگی برابر خون بہائے اور نہ میری خاطر اپنا خون بہائے۔حضرت علیؓ نے دوبارہ وہی درخواست کی جس پر حضرت عثمان نے وہی جواب دیا۔راوی کہتے ہیں اس پر میں نے حضرت علی کو حضرت عثمان کے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! تُو جانتا ہے کہ ہم نے اپنی تمام کوششیں صرف کر ڈالی ہیں۔پھر آپ مسجد نبوی میں تشریف لائے نماز کا وقت ہو چکا تھا۔لوگوں نے آپ سے کہا اے ابو الحسن ! آگے بڑھیں اور لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتا جبکہ امام محصور ہے ، میں اکیلے نماز پڑھ لوں گا۔پھر آپ تنہا نماز پڑھ کر واپس چلے گئے۔حضرت علی کا بیٹا آیا اور اس نے آپ سے کہا اے میرے باپ! بخدا مخالفین نے حضرت عثمان کے گھر پر حملہ کر دیا ہے۔حضرت علیؓ نے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليه راجعون خدا کی قسم ! وہ انہیں قتل کر دیں گے۔لوگوں نے حضرت علی سے پوچھا حضرت عثمان کہاں ہوں گے یعنی شہادت کے بعد۔فرمایا اللہ کی قسم ! جنت میں۔لوگوں نے پوچھا اور یہ لوگ کہاں ہوں گے جنہوں نے قتل کیا ہے اے ابوالحسن! یہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ حضرت علی نے فرمایا: خدا کی قسم ! آگ میں۔آپؐ نے تین بار یہ کہا۔179 باغیوں نے جب مدینے کا محاصرہ کر لیا تو ان حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ اہل مصر حضرت علی کے پاس گئے۔وہ اس وقت مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے اور اس کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے۔ان لوگوں نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ