اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 425
صحاب بدر جلد 3 425 حضرت علی نہیں گرانا چاہتے مگر مجھے تمہارا خون گرانے میں تامل نہیں ہے۔اس پر عمر و جوش میں اندھا ہو کر اپنے گھوڑے سے کود پڑا اور اس کی کونچیں کاٹ کر اسے نیچے گرا دیا تا کہ گھوڑے سے واپسی کا بھی کوئی رستہ نہ رہے اور پھر ایک آگ کے شعلہ کی طرح دیوانہ وار حضرت علی کی طرف بڑھا اور اس زور سے حضرت علی پر تلوار چلائی کہ وہ ان کی ڈھال کو قلم کرتی ہوئی ان کی پیشانی پر لگی اور ان کی پیشانی کو کسی قدر زخمی بھی کیا مگر ساتھ ہی حضرت علی نے اللہ اکبر ! کا نعرہ لگاتے ہوئے ایسا وار کیا کہ وہ اپنے آپ کو بچا تارہ گیا اور حضرت علی کی تلوار اسے شانے پر سے کاٹتی ہوئی نیچے اتر گئی اور عمر و تڑپتا ہوا گر ا اور جان دے دی۔عمرو بن عبد وُڈ کے قتل ہونے کے بعد کفار نے رسول اللہ صلی اللی کمی کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ وہ اس کی لاش دس ہزار درہم کے بدلے میں خرید لیں گے تو آپ صلی علیہم نے فرمایا: اسے لے جاؤ۔ہم مردوں کی قیمت نہیں کھاتے۔834 معاہدہ صلح حدیبیہ کی تحریر لکھنے والے الله سة 833 حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علیم نے اہل حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی بن ابو طالب نے ان کے درمیان ایک تحریر لکھی اور اس میں آپ کا نام محمد رسول اللہ صلی للی کم لکھا۔مشرکوں نے کہا کہ محمد رسول اللہ نہ لکھو۔اگر آپ رسول ہوتے تو ہم آپ سے نہ لڑتے۔آپ صلی علیہم نے حضرت علی سے کہا کہ اسے مٹادو۔حضرت علی نے کہا کہ میں وہ شخص نہیں جو اسے مٹائے گا۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور ان سے اس شرط پر صلح کر لی کہ آپ اور آپ کے صحابہ تین دن مکہ میں رہیں گے اور وہ اس میں ہتھیار جلبان میں رکھ کر داخل ہوں گے۔لوگوں نے پوچھا کہ یہ جلبان کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ وہ غلاف جس میں تلوار مع میان کے رکھی جاتی ہے۔835 اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے ذرا تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ : "جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے اور کفار صلح کے لئے شرائط پیش کر رہے تھے۔صحابہ اپنے دلوں میں ایک آگ لئے بیٹھے تھے اور ان کے سینے ان مظالم کی تپش سے جل رہے تھے جو کفار کی طرف سے میں سال سے ان پر کئے جارہے تھے۔ان کی تلواریں میانوں سے باہر نکلی پڑتی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح موقع آئے تو ان مظالم کا جو انہوں نے اسلام پر کئے ہیں بدلہ لیا جائے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی باتیں سنیں اور جب یہ تجویزان کی طرف سے پیش ہوئی کہ آؤ ہم آپس میں صلح کر لیں تو آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم صلح کر لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ اس سال تم عمرہ نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اس سال ہم عمرہ نہیں کریں گے۔پھر انہوں نے کہا کہ دوسرے سال جب آپ عمرہ کے