اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 23

اصحاب بدر جلد 3 23 حضرت عمر بن خطاب ہجرت کی۔بہر حال ہیکل کی یہ بات اپنے اندر وزن رکھتی ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ طبقات ابن سعد اور ابن ہشام بھی ایسا ہی لکھتے ہیں۔لگتا یہی ہے کہ حضرت عمرؓ نے بھی دیگر مسلمانوں کی طرح آنحضرت صلی علی کلم کے ارشاد کے مطابق خاموشی سے ہجرت کی ہو گی کیونکہ مکہ میں جیسے حالات تھے ان کے پیش نظر کھلم کھلا ایسا کرنا ممکن نہیں تھا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح مکہ تک جس نے بھی ہجرت کی اس نے خاموشی سے ہجرت کرنے میں ہی عافیت جانی۔بہر حال اگر حضرت علی کی اس روایت کو صحیح بھی مانا جائے تو ہو سکتا ہے کہ انفرادی فعل ہو لیکن بظاہر شواہد یہی ہیں کہ لگتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔47 رض حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے مہاجرین میں سے جو ہمارے پاس آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر تھے جو بنو عبد الدار میں سے تھے۔پھر حضرت ابن ام مکتوم آئے جو نا بینا تھے اور بنوفھر میں سے تھے۔پھر حضرت عمر بن خطاب میں لوگوں کے ساتھ سوار ہو کر آئے۔ہم نے رسول اللہ صلی الم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرے پیچھے ہی ہیں یعنی کچھ عرصہ بعد آجائیں گے۔پھر کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی الی یوم تشریف لائے اور ابو بکر آپ کے ساتھ تھے۔48 اگر یہ روایت صحیح ہے تو پھر زیادہ قوی امکان یہی ہے کہ حضرت عمرؓ نے کسی وقت مجلس میں ہجرت کا ذکر کر دیا ہو اور جوش میں کہہ دیا ہو کہ مجھے روک کر دکھانا لیکن ہجرت خاموشی سے ہی کی ہے کیونکہ یہ روایت بھی آتی ہے کہ ہمیں لوگ آپ کے ساتھ تھے۔بہر حال واللہ اعلم۔حضرت عمر مدینہ پہنچ کر قبا میں رفاعه بن عبد المنذر کے مہمان ہوئے۔قبا جیسا کہ ہم جانتے ہیں مدینے سے تین میل کے فاصلے پر اس کی بالائی آبادی ہے اور یہاں انصار کے کچھ خاندان آباد تھے۔ان سب میں ممتاز عمر و بن عوف کا خاندان تھا۔اس خاندان کے سردار کلثوم بن ہزم تھے۔قبا پہنچ کر آنحضرت صلی للی کم نے انہی کے مکان پر قیام فرمایا تھا۔50 مواخات 49 حضرت عمرؓ کی مواخات کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی علیم نے حضرت عمر اور حضرت ابو بکر صدیق کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی لیکن یہ مواخات بھی دو مواقع پر ہوئی تھی ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں۔مکہ میں جو مؤاخات قائم فرمائی تھی اس وقت آنحضرت صلی علی یم نے اپنے ساتھ حضرت علی کو رکھا تھا اور حضرت ابو بکر کی حضرت عمرؓ کے ساتھ مواخات قائم فرمائی تھی۔بہر حال مؤاخات قائم ہونے کے یہ دونوں علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں۔مدینہ میں مہاجر اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ہجرت کے بعد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عویم بن سَاعِدَہ کے درمیان