اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 22
محاب بدر جلد 3 22 حضرت عمر بن خطاب خطاب کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔حضرت عمرؓ نے آپ صلی علی کلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے۔نبی کریم ملی ایم نے آپ سے فرمایا: نہیں۔اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک میں تمہارے نفس سے زیادہ تمہیں محبوب نہ ہو جاؤں۔یہ بڑی ضروری چیز ہے۔حضرت عمرؓ نے آپ سے عرض کیا۔اللہ کی قسم ! اب آپ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔نبی کریم صلی میں ہم نے فرمایا: ہاں اب ہے عمر ، اب ہے عمر 45 یعنی اب ٹھیک ہے۔یہ ہے ایمان کی حالت۔مدینہ کی طرف ہجرت حضرت عبد اللہ بن عباس حضرت عمرؓ کی مدینہ کی طرف ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مجھے علی بن ابو طالب نے بتایا کہ میں مہاجرین میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے چھپ کر ہجرت نہ کی ہو سوائے حضرت عمر بن خطاب کے۔جب آپؐ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ نے تلوار لٹکائی، کندھے پر اپنی کمان رکھی، تیر ہاتھ میں لیے اور نیزہ پکڑے ہوئے کعبہ کی طرف گئے۔سردارانِ قریش اس کے صحن میں تھے۔آپ نے وقار کے ساتھ کعبہ کے سات چکر لگائے۔پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے اور اطمینان سے نماز ادا کی۔پھر آپ ہر گروہ کے پاس ایک ایک کر کے کھڑے ہوئے اور ان سے کہا: چہرے بگڑ جائیں اللہ ناکوں کو خاک آلودہ کر دے۔جو چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے کھوئے اس کی اولاد یتیم ہو اور اس کی بیوی بیوہ ہو وہ اس وادی کے پار مجھے مل لے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا سوائے چند کمزور مسلمانوں کے کسی نے پیچھا نہ کیا اور آپؐ نے انہیں معلومات فراہم کیں اور ان کی رہنمائی کی۔پھر اپنے رستے پر چل پڑے۔46 حضرت عمرضی اس طرح کھل کے ہجرت کرنے کے بارے میں حضرت علی کی صرف یہی ایک روایت ہے جو بیان کی جاتی ہے لیکن کئی سیرت نگار اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔محمد حسین ہیکل نے حضرت عمر کی سیرت و سوانح پر مشتمل ایک کتاب لکھی ہے۔اس نے اس بحث کو اٹھایا ہے کہ آنحضرت صلی علیکم نے ہجرت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ خاموشی سے چپکے سے اور چھپ کر مکہ سے نکلیں تا کہ مخالفین کو علم نہ ہو مبادا وہ روک پیدا کریں اور مزید تنگ کریں۔تو اس واضح حکم کے ہوتے ہوئے حضرت عمر کیسے اس کی نافرمانی کر سکتے تھے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ طبقات ابن سعد اور ابن ہشام میں وضاحت سے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے بھی دیگر مسلمانوں کی طرح چپکے سے ہجرت کی تھی۔بہر حال اگر حضرت علی کی روایت کو کسی طرح صحیح قرار دینا بھی ہے تو ہو سکتا ہے کہ کسی وقت کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا ہو اور اس وقت ہجرت نہ کی ہو۔کعبہ میں کھڑے ہو کر سر داروں کے سامنے جو اعلان کیا تھا کہ میں جا رہا ہوں مجھے روک لینا لیکن ہجرت نہ کی ہو اور جب ہجرت کا پروگرام بنا تو خاموشی سے