اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 403
حاب بدر جلد 3 403 حضرت علی بات ہے۔اس کے لیے کسی قولی اقرار کی ضرورت نہیں پس ان کا نام پیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور 78866 جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابو بکر مسلمہ طور پر مقدم ہیں اور سابق بالا یمان تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے پر ایک مددگار ملا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی ایم کی شان دیکھو کہ آپ کو بن مانگے مدد گار مل گیا۔“ یہاں حضرت مصلح موعودؓ حضرت خدیجہ کا ذکر فرمانا چاہ رہے ہیں اور آپ کا بتارہے ہیں کہ حضرت خدیجہ آپ کی مدد گار تھیں۔کہتے ہیں دیکھو ! محمد رسول اللہ کی شان دیکھو !! کہ آپ کو بن مانگے مدد گار مل گیا یعنی آپ کی وہ بیوی جس کے ساتھ آپ کو بے حد محبت تھی سب سے پہلے آپ پر ایمان لے آئی۔کیونکہ ہر شخص کا مذہب اور عقیدہ آزاد ہو تا ہے اور کوئی کسی کو جبر آمنوا نہیں سکتا، اس لیے ممکن تھا کہ جب آپ نے حضرت خدیجہ سے خدا تعالیٰ کی پہلی وحی کا ذکر کیا تو وہ آپ کا ساتھ نہ دیتیں اور کہہ دیتیں کہ میں ابھی سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھاؤں گی لیکن نہیں۔حضرت خدیجہ نے بلا تامل، بلا توقف اور بلا پس و پیش آپ کے دعوی کی تائید کی اور رسول کریم صلی علیم کا یہ فکر کہ ممکن ہے خدیجہ مجھ پر ایمان نہ لائے جاتارہا اور سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ ہی ہوئیں۔اس وقت خدا تعالیٰ عرش پر بیٹھیا کہ رہا تھا۔الیسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تجھے خدیجہ کے ساتھ پیار تھا اور محبت تھی اور تیرے دل میں یہ خیال تھا کہ کہیں خدیجہ تجھے چھوڑ نہ دے اور تُو اس فکر میں تھا کہ خدیجہ مجھ پر ایمان لاتی ہے یا نہیں۔مگر کیا ہم نے تیری ضرورت کو پورا کیا یانہ کیا؟“ اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد جب آپ کے گھر میں خدا تعالیٰ کی وحی کے متعلق باتیں ہوئیں تو زید بن حارث غلام جو آپ کے گھر میں رہتا تھا آگے بڑھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔اس کے بعد حضرت علییؓ جن کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی اور وہ ابھی بالکل بچہ ہی تھے اور وہ دروازہ کے ساتھ کھڑے ہو کر اس گفتگو کو سن رہے تھے جو رسول کریم صلی الم اور حضرت خدیجہ کے درمیان ہو رہی تھی۔جب انہوں نے یہ سنا کہ خدا کا پیغام آیا ہے تو وہ علی جو ایک ہونہار اور ہوشیار بچہ تھا۔وہ علی جس کے اندر نیکی تھی۔وہ علی جس کے نیکی کے جذبات جوش مارتے رہتے تھے مگر نشو و نمانہ پاسکے تھے۔وہ علی نجس کے احساسات بہت بلند تھے مگر ابھی تک سینے کے اندر دبے ہوئے تھے اور وہ علی نجس کے اندر اللہ تعالیٰ نے قبولیت کا مادہ ودیعت کیا تھا مگر ابھی تک اسے کوئی موقع نہ مل سکا تھا اس نے جب دیکھا کہ اب میرے جذبات کے ابھرنے کا وقت آگیا ہے۔اس نے جب دیکھا کہ اب میرے احساسات کے نشو و نما کا موقع آگیا ہے۔اس نے جب دیکھا کہ اب خدا مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے تو وہ بچہ ساعلی اپنے درد سے معمور سینے کے ساتھ لجاتا اور شرماتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! جس بات پر میری بچی ایمان لائی ہے اور جس بات پر زید ایمان لایا ہے اس پر میں بھی ایمان لاتا ہوں۔78964