اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 374
374 حضرت عثمان بن عفان اصحاب بدر جلد 3 فرمايا أَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَ وَلِ فِي الْآخِرَةِ کہ تم دنیا میں بھی میرے دوست ہو اور آخرت میں بھی میرے دوست ہو۔717 حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام ابوسهله بیان کرتے ہیں کہ یوم الدار کو یعنی جس دن حضرت عثمان کو باغیوں نے آپ کے گھر میں محصور کر کے شہید کر دیا تھا۔کہتے ہیں کہ اس دن میں نے حضرت عثمان سے عرض کیا اے امیر المومنین ! ان مفسدین سے لڑیں۔حضرت عبد اللہ نے بھی آپ سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین! ان مفسدین سے لڑیں۔حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں لڑائی نہیں کروں گا۔رسول اللہ صلی الیم نے مجھ سے ایک بات کا وعدہ کیا تھا۔پس میں چاہتا ہوں کہ وہ پورا ہو۔18 منافقین کے بے سر و پا اعتراض حضرت عثمان کے غزوہ بدر سے پیچھے رہنے ، اُحد میں فرار اور بیعت رضوان میں شامل نہ ہونے کی بابت اعتراض کیا جاتا ہے۔یہ منافقین نے بھی آپ پہ اعتراض کیسے تھے۔عثمان بن مَوْهَب بیان کرتے ہیں کہ اہل مصر سے ایک شخص حج کے لیے آیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔فتنہ پیدا کرنے کے لیے اس نے باتیں کیں۔اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ قریشی ہیں۔اس نے پوچھا: ان میں یہ بوڑھا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہیں۔اس نے کہا اے ابن عمر ! آپ سے ایک بات کے متعلق پوچھتا ہوں۔آپ مجھے بتائیں کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عثمان اُحد کے دن فرار ہوئے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر اس نے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ جنگ بدر سے غیر حاضر رہے اور اس میں شریک نہ ہوئے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس نے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان سے بھی غیر حاضر تھے اور اس میں شریک نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس پر اس شخص نے تعجب سے کہا اللہ اکبر۔حضرت ابن عمرؓ نے اسے کہا ادھر آؤ۔تم نے اعتراض تو کیا ہے۔تمہیں حقیقت حال کھول کر بتاتا ہوں۔جنگ اُحد کے دن جو اُن کا بھاگ جانا تھا تو میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کر دیا تھا اور آپؐ سے مغفرت کا سلوک فرمایا تھا۔اس وقت جب ایسی ہنگامی حالت تھی یہ مشہور ہو گیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کافروں نے شہید کر دیا ہے تو اس وقت پھر بہر حال ایسی حالت تھی جو ایک وقتی اضطراب کے طور پہ آپ چلے گئے تھے۔کہتے ہیں جہاں تک بدر سے حضرت عثمان کا غائب رہنا ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو آپ کی بیوی تھیں وہ بیمار تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا تھا کہ تم اپنی بیوی کے پاس ہی رہو۔تمہارے لیے بدر میں شامل ہونے والوں کی مانند اجر اور مال غنیمت میں سے حصہ ہو گا۔اور جہاں تک بیعت رضوان سے آپ کی غیر حاضری ہے تو یاد رکھو اگر وادی مکہ میں حضرت عثمان سے بڑھ کر کوئی اور شخص معزز ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان کی جگہ اس می کو کفار کی طرف سفیر بنا کر بھیجتے۔میں۔شخص