اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 370
اصحاب بدر جلد 3 370 حضرت عثمان بن عفان نکلے۔وہ لوگ مدینہ میں ایک احاطے میں جانا چاہتے تھے جسے حَشِ گوگب کہتے تھے۔یہود وہاں اپنے مردے دفن کیا کرتے تھے۔جب حضرت عثمان کا جنازہ باہر آیا تو ان لوگوں نے آپ کی چار پائی پر پتھر مارے اور آپ کو گرانے کی کوشش کی۔جب یہ بات حضرت علی تک پہنچی تو انہوں نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھجوایا اور کہا کہ وہ ایسا کرنے سے باز آجائیں۔اس پر وہ لوگ باز آگئے۔جنازہ چلا یہاں تک کہ حضرت عثمان کو حش کو کب میں دفن کر دیا گیا۔جب امیر معاویہ لوگوں پر غالب آگئے تو انہوں نے حکم دیا کہ اس احاطے کی دیوار کو گرادیا جائے یہاں تک کہ وہ بقیع یعنی قبرستان جو تھا اس میں شامل ہو جائے اور انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے وفات یافتگان کو حضرت عثمان کی قبر کے ارد گرد دفن کریں یہاں تک کہ وہ احاطہ مسلمانوں کی قبروں کے ساتھ جا ملا۔698 بعض کتب تاریخ میں یہ بھی بیان ہے کہ اس جگہ کو حضرت عثمان نے خود خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا تھا۔9 699 حضرت عثمان کی شہادت کے بعد کے واقعات شہادت کے بعد کے ایام کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کچھ مختصر ساتحریر کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ اب مدینہ انہی لوگوں کے قبضہ میں رہ گیا اور ان ایام میں ان لوگوں نے جو حرکات کیں وہ نہایت حیرت انگیز ہیں۔حضرت عثمان کو شہید تو کر چکے تھے۔ان کی نعش کے دفن کرنے پر بھی ان کو اعتراض ہوا اور تین دن تک آپ کو دفن نہ کیا جاسکا۔آخر صحابہ کی ایک جماعت نے ہمت کر کے رات کے وقت آپ کو دفن کیا۔ان لوگوں کے راستوں میں بھی انہوں نے روکیں ڈالیں لیکن بعض لوگوں نے سختی سے مقابلہ کرنے کی دھمکی دی تو دب گئے۔100 حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئیاں فرمائی تھیں۔ان کا ذکر اس طرح ملتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے باغ کے دروازے پر پہرہ دینے کا حکم فرمایا۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے دو اور ایسے جنت کی بشارت دو تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔پھر ایک اور شخص آیا اور اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آنے دو اور اسے جنت کی بشارت دو تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔پھر ایک اور شخص آیا اور اجازت مانگی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا اسے آنے دو اور اسے جنت کی بشارت دو تاہم ایک بڑی مصیبت اسے پہنچے گی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔701