اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 368
تاب بدر جلد 3 368 حضرت عثمان بن عفان اسلام کے لیے منتخب کیا ان میں ایک حضرت عثمان بھی تھے اور آپ پر حضرت ابو بکر سکا گمان غلط نہیں گیا بلکہ تھوڑے دنوں کی تبلیغ سے ہی آپ نے "حضرت عثمانؓ نے "اسلام قبول کر لیا اور اس طرح السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشر و گروہ میں شامل ہوئے جن کی قرآن کریم نہایت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔معتبر عرب میں انہیں جس قدر عزت و توقیر حاصل تھی اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بنا پر مکہ تشریف لائے اور اہل مکہ نے بغض و کینہ سے اندھے ہو کر آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا کہ کسی خاص شخص کو اہل مکہ کے پاس اس امر پر گفتگو کرنے کے لیے بھیجا جاوے اور حضرت عمر کا اس کے لیے انتخاب کیا۔حضرت عمر نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ! میں تو جانے کو تیار ہوں مگر مکہ میں اگر کوئی شخص ان سے گفتگو کر سکتا ہے تو وہ حضرت عثمان ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کی نظر میں خاص عزت رکھتا ہے۔پس اگر کوئی دوسرا شخص گیا تو اس پر کامیابی کی اتنی امید نہیں ہو سکتی جتنی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ہے۔اور آپ کی اس بات کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی درست تصور کیا اور انہی کو اس کام کے لیے بھیجا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کفار میں بھی خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا بہت احترام فرماتے تھے۔ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تب بھی آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عثمان تشریف لائے تو آپ نے جھٹ اپنے کپڑے سمیٹ کر درست کر لیے اور فرمایا حضرت عثمان کی طبیعت میں حیا بہت ہے۔اس لیے میں اس کے احساسات کا خیال کر کے ایسا کرتا ہوں۔آپ ان شاذ آدمیوں میں سے ایک ہیں " یعنی حضرت عثمان ان شاذ آدمیوں میں سے ایک ہیں " جنہوں نے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے بھی کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا اور زنا کے نزدیک نہیں گئے اور یہ ایسی خوبیاں ہیں جو عرب کے ملک میں جہاں شراب کا پینا فخر اور زنا ایک روز مرہ کا شغل سمجھا جاتا تھا اسلام سے پہلے چند گنتی کے آدمیوں سے زیادہ لوگوں میں نہیں پائی جاتی تھیں۔غرض آپ کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق آپ میں پائے جاتے تھے۔دنیاوی و جاہت کے لحاظ سے آپؐ نہایت ممتاز تھے۔اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آپ پر نہایت خوش تھے اور حضرت عمرؓ نے آپ کو ان چھ آدمیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک آپ کی اعلیٰ درجہ کی خوشنودی کو حاصل کیے رہے اور پھر آپ عشرہ مبشرہ میں سے ایک فرد ہیں یعنی ان دس آدمیوں میں سے ایک ہیں جن کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی۔6931 حضرت عثمانؓ کی شہادت کے دن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان سترہ یا اٹھارہ ذوالحجہ