اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 362
اصحاب بدر جلد 3 362 حضرت عثمان بن عفان عثمان کے پاس جو پیامبر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو جاہلیت میں بھی بدیوں سے پر ہیز کیا ہے اور اسلام میں بھی اس کے احکام کو نہیں توڑا۔میں کیوں اور کس جرم میں اس عہدے کو چھوڑ دوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے ؟ میں تو اس قمیص کو کبھی نہیں اتاروں گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے۔وہ شخص یہ جواب سن کر واپس آگیا اور اپنے ساتھیوں سے ان الفاظ میں آکر مخاطب ہوا کہ خدا کی قسم! ہم سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔خدا کی قسم ! مسلمانوں کی گرفت سے عثمان کو قتل کرنے کے سوائے ہم بیچ نہیں سکتے کیونکہ اس صورت میں حکومت تہ و بالا ہو جائے گی اور انتظام بگڑ جائے گا اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو گا اور اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں یعنی حل تو یہی ہے لیکن قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔اس شخص کے یہ فقرات نہ صرف ان لوگوں کی گھبراہٹ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس وقت تک بھی حضرت عثمان نے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہونے دی تھی جسے یہ لوگ بطور بہانہ استعمال کر سکیں اور ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت عثمان کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں۔ہے۔عموماً شہادت کا دردناک واقعہ جب یہ لوگ حضرت عثمان کے قتل کا منصوبہ کر رہے تھے تو حضرت عبد اللہ بن سلام جو بحالت کفر بھی اپنی قوم میں نہایت معزز تھے اور جن کو یہود اپنا سر دار مانتے تھے اور عالم بے بدل جانتے تھے، تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی اور حضرت عثمان کے قتل سے ان کو منع فرمایا کہ اے قوم! خدا کی تلوار کو اپنے اوپر نہ کھینچو۔خدا کی قسم ! اگر تم نے تلوار کھینچی تو پھر اسے میان میں کرنے کا موقع نہ ملے گا، پھر ہمیشہ مسلمانوں میں تلوار کھنچی رہے گی۔ہمیشہ مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہی رہے گا۔عقل کرو۔آج تم پر حکومت صرف کوڑے کے ساتھ کی جاتی۔حدود شریعہ میں کوڑے کی سزا دی جاتی ہے اور اگر تم نے اس شخص کو قتل کر دیا یعنی حضرت عثمان کو قتل کر دیا تو حکومت کا کام بغیر تلوار کے نہ چلے گا۔یعنی چھوٹے چھوٹے مجرموں کے جرموں پر بھی لوگوں کو قتل کیا جائے گا۔یاد رکھو کہ اس وقت مدینہ کے محافظ ملائکہ ہیں۔اگر تم اس کو قتل کر دو گے تو ملائکہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔اس نصیحت سے ان لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ عبد اللہ بن سلام صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھتکار دیا اوران کو پہلے دین کا طعنہ دے کر کہا کہ اے یہو دن کے بیٹے تھے ان کاموں سے کیا تعلق ؟ افسوس کہ ان لوگوں کو یہ تو یا د رہا کہ عبد اللہ بن سلام یہو دن کے بیٹے تھے لیکن یہ بھول گئے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ایمان لانے پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ایک مصیبت اور دکھ میں آپ شریک ہوئے اور اسی طرح یہ بھی بھول گیا کہ ان کا لیڈر اور ان کو ورغلانے والا حضرت علی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی قرار دے کر حضرت عثمان کے مقابلے پر کھڑا کرنے والا عبد اللہ بن سبا بھی یہو دن کا بیٹا تھا بلکہ خود یہودی تھا اور صرف ظاہر میں اسلام کا اظہار کر رہا تھا۔