اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 359
حاب بدر جلد 3 آخری حج 359 حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان نے اپنی وفات سے یا جب فتنہ زوروں پر تھا اس سے تقریباً ایک سال پہلے آخری حج کیا۔بہر حال ان کا جو آخری حج تھا اس وقت فتنہ پردازوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور حضرت امیر معاویہ نے اس کو بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حج سے واپسی پر حضرت معاویہ بھی حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے۔کچھ دن ٹھہر کر آپ واپس جانے لگے تو آپ نے حضرت عثمان سے علیحدہ مل کر درخواست کی کہ فتنہ بڑھتا ہو ا معلوم ہوتا ہے۔اگر اجازت ہو تو میں اس کے متعلق کچھ عرض کروں۔حضرت عثمان نے فرمایا کہو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اول میر امشورہ یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ شام چلیں کیونکہ شام میں ہر طرح سے امن ہے اور کسی قسم کا فساد نہیں۔ایسا نہ ہو کہ یکدم کسی قسم کا فساد اٹھے اور اس وقت کوئی انتظام نہ ہو سکے۔حضرت عثمان نے ان کو جواب دیا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کو کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا خواہ جسم کی دھجیاں اڑا دی جائیں۔حضرت معاویہ نے کہا پھر دوسر ا مشورہ یہ ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں ایک دستہ شامی فوج کا آپ کی حفاظت کے لیے بھیج دوں۔ان لوگوں کی موجودگی میں کوئی شخص شرارت نہیں کر سکے گا۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ نہ میں عثمان کی جان کی حفاظت کے لیے اس قدر بوجھ بیت المال پر ڈال سکتا ہوں اور نہ یہ پسند کرتا ہوں کہ مدینہ کے لوگوں کو فوج رکھ کر تنگی میں ڈالوں۔اس پر حضرت معاویہ نے عرض کی کہ پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ صحابہ کی موجودگی میں لوگوں کو جرآت ہے کہ اگر عثمان نہ رہے تو ان میں سے کسی کو آگے کھڑا کر دیں گے۔ان لوگوں کو مختلف ملکوں میں پھیلا دیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا ہے میں ان کو پراگندہ کر دوں، پھیلا دوں۔اس پر معاویہ رو پڑے اور عرض کی کہ اگر ان تدابیر میں سے جو آپ کی حفاظت کے لیے میں نے پیش کی ہیں آپ کوئی بھی قبول نہیں کرتے تو اتنا تو کیجیے کہ لوگوں میں یہ اعلان کر دیں کہ اگر میری جان کو کوئی نقصان پہنچا تو معاویہ کو میرے قصاص کا حق ہو گا۔شاید لوگ اس سے خوف کھا کر شرارت سے باز رہیں۔حضرت عثمان نے جواب دیا کہ معاویہ ! جو ہونا ہے ہو کر رہے گا، میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کی طبیعت سخت ہے۔حضرت عثمان نے حضرت معاویہ کو کہا کہ آپ کی طبیعت سخت ہے ایسانہ ہو کہ آپ مسلمانوں پر سختی کریں۔اس پر حضرت معاویہ روتے ہوئے آپ کے پاس سے اٹھے اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ آخری ملاقات ہو۔اور باہر نکل کر صحابہ سے کہا۔اسلام کا دارو مدار آپ لوگوں پر ہے۔حضرت عثمان اب بالکل ضعیف ہو گئے ہیں اور فتنہ بڑھ رہا ہے۔آپ لوگ ان کی نگہداشت رکھیں۔یہ کہ کر معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرت عثمان کا جو مضبوط عزم و ہمت تھا اس کے بارے میں بیان ہے ، مجاہد نے بیان 685