اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 355
حاب بدر جلد 3 355 حضرت عثمان بن عفان جانیں اس عرصہ میں محفوظ تھیں تو صرف اس لیے کہ ان لوگوں کو جلدی کی کوئی ضرورت نہ معلوم ہوتی تھی۔یعنی ان لوگوں کو جو باغی تھے جلدی کی کوئی ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی اور بہانہ کی تلاش تھی۔بہانہ یہ تھا کہ اس دن حضرت عثمان پر حملہ کریں۔لیکن وہ وقت بھی آخر آگیا جبکہ زیادہ انتظار کرنانا ممکن ہو گیا کیونکہ حضرت عثمان کا دل کو ہلا دینے والا وہ پیغام جو آپ نے حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں کو بھیجا تھا حجاج کے مجمع میں سنادیا گیا اور وادی مکہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کی آواز سے گونج رہی تھی۔اور حج پر جمع ہونے والے مسلمانوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ حج کے بعد جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہ رہیں گے اور مصری مفسدوں اور ان کے ساتھیوں کا قلع قمع کر کے چھوڑیں گے۔مفسدوں کے جاسوسوں نے انہیں اس ارادے کی اطلاع دے دی اور اب ان مفسدوں کے کیمپ میں سخت گھبراہٹ کے آثار تھے۔حتی کہ ان میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ اب اس شخص کے قتل کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اگر اسے ہم نے قتل نہ کیا تو مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہمارے قتل میں اب کوئی شبہ نہیں۔اس گھبراہٹ کو اس خبر نے اور بھی دوبالا کر دیا کہ شام اور کوفہ اور بصرہ میں بھی حضرت عثمان کے خطوط پہنچ گئے ہیں اور وہاں کے لوگ جو پہلے سے ہی حضرت عثمان کے احکام کے منتظر تھے ان خطوط کے پہنچنے پر اور بھی جوش سے بھر گئے ہیں اور صحابہ نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے مسجدوں اور مجلسوں میں تمام مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا کر ان مفسدوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ جس نے آج جہاد نہ کیا اس نے گویا کچھ بھی نہ کیا۔کوفہ میں عقبہ بن عمر و، عبد اللہ بن ابی اوفی اور حنظلہ بن ربیع اور دیگر صحابہ کرام نے لوگوں کو اہل مدینہ کی مدد کے لیے ابھارا ہے تو بصرہ میں عمران بن حصین، انس بن مالک، ہشام بن عامر اور دیگر صحابہ نے۔شام میں اگر عبادہ بن صامت، ابو امامہ اور دیگر صحابہ نے حضرت عثمان کی آواز پر لبیک کہنے پر لوگوں کو اکسایا ہے تو مصر میں خارجہ اور دیگر لوگوں نے اور سب ملکوں سے فوجیں اکٹھی ہو کر مدینہ کی طرف بڑھتی چلی آتی ہیں۔غرض ان خبروں سے باغیوں کی گھبر اہٹ اور بھی بڑھ گئی۔آخر حضرت عثمانؓ کے گھر پر حملہ کر کے بزور اندر داخل ہونا چاہا۔صحابہ نے مقابلہ کیا اور آپس میں سخت جنگ ہوئی۔گو صحابہ کم تھے مگر ان کی ایمانی غیرت ان کی کمی کی تعداد کو پورا کر رہی تھی۔جس جگہ لڑائی ہوئی یعنی حضرت عثمان کے گھر کے سامنے وہاں جگہ بھی تنگ تھی اس لیے بھی مفسد اپنی کثرت سے زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔حضرت عثمان کو جب اس لڑائی کا علم ہوا تو آپ نے صحابہ کو لڑنے سے منع کیا مگر وہ اس وقت حضرت عثمان کو اکیلا چھوڑ دینا ایمانداری کے خلاف اور اطاعت کے حکم کے متضاد خیال کرتے تھے اور باوجو د حضرت عثمان کے اللہ کی قسم دینے کے انہوں نے کوٹنے سے انکار کر دیا۔آخر حضرت عثمان نے ڈھال ہاتھ میں پکڑی اور باہر تشریف لائے اور صحابہ کو اپنے مکان کے اندر لے گئے اور دروازے بند کرادیے اور آپ نے سب صحابہ اور ان کے مدد گاروں کو وصیت کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دنیا اس لیے نہیں دی کہ تم اس کی طرف جھک جاؤ بلکہ اس لیے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ