اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 354

اصحاب بدر جلد 3 354 حضرت عثمان بن عفان غافل نہ تھے۔مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے دو حصوں میں اپنا کام تقسیم کیا ہو ا تھا۔جو سن رسیدہ تھے، بوڑھے تھے اور جن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھاوہ تو اپنے اوقات کو لوگوں کو سمجھانے پر صرف کرتے اور جو لوگ ایسا کوئی اثر نہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔اوّل الذکر جماعت میں سے حضرت علی اور حضرت سعد بن وقاص فاتح فارس فتنہ کے کم کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں تھے۔خصوصاً حضرت علی تو اس فتنہ کے ایام میں اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کام میں لگ گئے تھے۔چنانچہ ان واقعات کی رؤیت کے گواہوں میں سے ایک شخص عبد الرحمن نامی بیان کرتا ہے کہ ان ایام فتنہ میں میں نے دیکھا ہے کہ حضرت علی نے اپنے تمام کام چھوڑ دیے تھے اور حضرت عثمان کے دشمنوں کا غضب ٹھنڈا کرنے اور آپ کی تکالیف دور کرنے کی فکر میں ہی رات دن لگے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ تک پانی پہنچنے میں کچھ دیر ہوئی تو حضرت طلحہ پر جن کے سپرد یہ کام تھا حضرت علی نسخت ناراض ہوئے اور اس وقت تک آرام نہ کیا جب تک پانی حضرت عثمان کے گھر میں پہنچ نہ گیا۔دوسر ا گر وہ ایک ایک دو دو کر کے جس جس وقت موقع ملتا تھا تلاش کر کے حضرت عثمان یا آپ کے ہمسائے کے گھروں میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور اس نے اس امر کا پختہ ارادہ کر لیا کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے مگر حضرت عثمان کی جان پر آنچ نہ آنے دیں گے۔اس گروہ میں حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی اولاد کے سوائے خود صحابہ میں سے بھی ایک جماعت شامل تھی۔یہ لوگ رات اور دن حضرت عثمان کے مکان کی حفاظت کرتے تھے اور آپ تک کسی دشمن کو پہنچنے نہ دیتے تھے۔اور گو یہ قلیل تعداد اس قدر کثیر تعداد کا مقابلہ تو نہ کر سکتی تھی مگر چونکہ باغی چاہتے تھے کہ کوئی بہانہ رکھ کر حضرت عثمان کو قتل کریں وہ بھی اس قدر زور نہ دیتے تھے۔اس وقت کے حالات سے حضرت عثمان کی اسلامی خیر خواہی پر جو روشنی پڑتی ہے اس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تین ہزار کے قریب باغیوں کا لشکر آپ کے دروازے کے سامنے پڑا ہے اور کوئی تدبیر اس سے بچنے کی نہیں مگر جو لوگ آپ کو بچانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی آپ روکتے ہیں کہ جاؤ اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالو۔ان لوگوں کو صرف مجھ سے عداوت ہے تم سے کوئی تعارض نہیں۔آپ کی آنکھ اس وقت کو دیکھ رہی تھی جبکہ اسلام ان مفسدوں کے ہاتھوں سے ایک بہت بڑے خطرے میں ہو گا اور صرف ظاہری اتحاد ہی نہیں بلکہ روحانی انتظام بھی پراگندہ ہونے کے قریب ہو جاوے گا اور آپ جانتے تھے کہ اس وقت اسلام کی حفاظت اور اس کے قیام کے لیے ایک ایک صحابی کی ضرورت ہو گی۔پس آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپؐ کی جان بچانے کی بے فائدہ کوشش میں صحابہ کی جانیں جاویں اور سب کو یہی نصیحت کرتے تھے کہ ان لوگوں سے تعارض نہ کرو اور چاہتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے آئندہ فتنوں کو دور کرنے کے لیے وہ جماعت محفوظ رہے جس نے رسول کریم رسول اللہ صلی علیکم کی صحبت پائی ہے مگر باوجود آپ کے سمجھانے کے جن صحابہ کو آپ کے گھر تک پہنچنے کا موقع مل جاتا وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کو تاہی نہ کرتے اور آئندہ کے خطرات پر موجودہ خطرے کو مقدم رکھتے اور اگر ان کی