اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 353
اصحاب بدر جلد 3 353 حضرت عثمان بن عفان کی تھی تو ان پر میں نے جبر نہیں کیا تھا۔ان کو مجبور نہیں کیا تھا کہ ضرور میری بیعت کرو۔جو شخص عہد توڑنا چاہتا ہے میں اس کے اس فعل پر راضی نہیں نہ خدا تعالیٰ راضی ہے۔اب عہد کو توڑنا چاہتے ہو تو توڑو۔میں نے نہ پہلے جبر کیا تھانہ اب جبر کروں گا۔ہاں میں راضی بہر حال نہیں۔یہ بہر حال غلط کام ہے۔اور اللہ تعالیٰ بھی اس پر راضی نہیں ہے۔ہاں وہ اپنی طرف سے جو چاہے کرے۔کیونکہ حج کے دن قریب آ رہے تھے اور چاروں طرف سے لوگ مکہ مکرمہ میں جمع ہو رہے تھے۔حضرت عثمان نے اس خیال سے کہ کہیں وہاں بھی یہ باغی کوئی فساد کھڑا نہ کریں اور اس خیال سے بھی کہ حج کے لیے جمع ہونے والے مسلمانوں میں اہل مدینہ کی مدد کی تحریک کریں، حضرت عبد اللہ بن عباس کو حج کا امیر بنا کر روانہ فرمایا۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے بھی عرض کی کہ ان لوگوں سے جہاد کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔آپنے مجھے حج کے لیے امیر بنا کے بھیج رہے ہیں لیکن میری خواہش یہ ہے کہ میں ان لوگوں سے جہاد کروں مگر حضرت عثمان نے ان کو مجبور کیا کہ وہ حج کے لیے جاویں اور حج کے ایام میں امیر حج کا کام کریں تا کہ مفسد وہاں اپنی شرارت نہ پھیلا سکیں اور وہاں جمع ہونے والے لوگوں میں بھی مدینہ کے لوگوں کی مدد کی تحریک کی جاوے اور مذکورہ بالا خط آپ ہی کے ہاتھ روانہ کیا۔جب ان خطوں کا ان مفسدوں کو علم ہوا تو انہوں نے اور بھی سختی کرنا شروع کر دی اور اس بات کا موقع تلاش کرنے لگے کہ کسی طرح لڑائی کا کوئی بہانہ مل جائے تو حضرت عثمان کو شہید کر دیں مگر ان کی تمام کوششیں فضول جاتی تھیں اور حضرت عثمان ان کو کوئی موقع شرارت کا ملنے نہ دیتے تھے۔آخر تنگ آکر یہ تدبیر سو جبھی کہ جب رات پڑتی اور لوگ سو جاتے تو یہ لوگ حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکتے اور اس طرح اہل خانہ کو اشتعال دلاتے تاکہ جوش میں آکر وہ بھی پتھر پھینکیں تو لو گوں کو کہہ سکیں کہ دیکھو انہوں نے ہم پہ حملہ کیا ہے اس لیے ہم بھی جواب دینے پر مجبور ہیں مگر حضرت عثمان نے اپنے تمام اہل خانہ کو جواب دینے سے روک دیا۔کچھ جواب نہیں دینا۔ایک دن موقع پا کر دیوار کے پاس حضرت عثمان تشریف لائے اور فرمایا کہ اے لوگو! میں تو تمہارے نزدیک تمہارا گناہگار ہوں، تم سمجھتے ہو ناں مجھے گناہگار تو گناہگار ہوں مگر دوسرے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے ؟ تم سمجھتے ہو کہ میں گناہ گار ہوں تو پھر مجھ سے جو زیادتی کرنی ہے کرو۔دوسرے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے کہ تم پتھر پھینکتے ہو۔اس سے دوسروں کو بھی چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم نے پتھر نہیں پھینکے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تم نہیں پھینکتے تو اور کون پھینکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ خد اتعالیٰ پھینکتا ہو گا۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ - حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔اگر خدا تعالیٰ ہم پر پتھر پھینکتا تو اس کا کوئی پتھر خطا نہ جاتا۔یہ نہ ہو تا کہ اس کا نشانہ اچک جاتا لیکن تمہارے پھینکے ہوئے پتھر تو ادھر اُدھر جاپڑتے ہیں۔یہ فرما کر آپ ان کے سامنے سے ہٹ گئے۔گو صحابہ کو اب حضرت عثمان کے پاس جمع ہونے کا موقع نہ دیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے