اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 350
اصحاب بدر جلد 3 350 حضرت عثمان بن عفان امہات المومنین میں سے سب سے پہلے حضرت ام حبیبہ آپ کی مدد کے لیے آئیں۔ایک خچر پر آپ سوار تھیں۔آپ اپنے ساتھ ایک مشکیزہ پانی کا بھی لائیں لیکن اصل غرض آپ کی یہ تھی کہ بنو امیہ کے تیتامی اور بیواؤں کی وصیتیں حضرت عثمان کے پاس تھیں اور آپ نے جب دیکھا کہ حضرت عثمان کا پانی باغیوں نے بند کر دیا ہے تو آپ کو خوف ہوا کہ وہ وصایا بھی کہیں تلف نہ ہو جائیں اور آپ نے چاہا کہ کسی طرح وہ وصایا محفوظ کرلی جائیں ورنہ پانی آپ کسی اور ذریعہ سے بھی پہنچا سکتی تھیں۔جب آپ حضرت عثمان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپ کو روکنا چاہا۔لوگوں نے بتایا کہ یہ ام المومنین ام حبیبہ ہیں مگر اس پر بھی وہ لوگ باز نہ آئے اور آپ کی خچر کو مارناشروع کیا۔ام المومنین ام حبیبہ نے ان لوگوں کو، باغیوں کو فرمایا کہ میں ڈرتی ہوں کہ بنو امیہ کے یتامی اور بیو گان کی وصایا ضائع نہ ہو جائیں اس لیے اندر جانا چاہتی ہوں تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کر دوں۔مگر ان بد بختوں نے آنحضرت صلی علیم کی زوجہ مطہرہ کو جواب دیا کہ تم جھوٹ بولتی ہو اور آپ کی خچر پر حملہ کر کے اس کے پالان کے رستے کاٹ دیے اور زمین الٹ گئی اور قریب تھا کہ حضرت ام حبیبہ گر کر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جا کر شہید ہو جاتیں کہ بعض اہل مدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر آپ کو سنبھالا اور گھر پہنچایا۔یہ وہ سلوک تھا جو ان لوگوں نے آنحضرت صلی للی کم کی زوجہ مطہرہ سے کیا۔حضرت ام حبیبہ آنحضرت صلی علیم سے ایسا اخلاص اور عشق رکھتی تھیں کہ جب پندرہ سولہ سال کی جدائی کے بعد، والدین سے جو ان کی جدائی تھی اس کے بعد جب آپ کا باپ جو عرب کا سر دار تھا اور مکہ میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا ایک خاص سیاسی مشن پر مدینہ آیا اور آپ ( ام حبیبہ) کو ملنے کے لیے بھی گیا تو آپ نے اس کے نیچے سے رسول کریم صلی للہ یکم کا بستر کھینچ لیا۔جب وہ بیٹھنے لگا تو نیچے آنحضرت صلی علیہ کس کا بستر بچھا ہوا تھا۔جب آپ کا باپ بیٹھنے لگا تو آپ نے بستر بھینچ لیا اس لیے کہ خدا کے رسول کے پاک کپڑے سے ایک مشرک کے تجس جسم کو چھوتے ہوئے دیکھنا آپ کی طاقت برداشت سے باہر تھا، باپ کو بھی نہیں بیٹھنے دیا۔تعجب ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے تو محمد رسول اللہ صلی ہی کم کی غیبت میں آپ کے کپڑے تک کی حرمت کا خیال رکھا مگر ان مفسدوں نے محمد رسول اللہ صلی علیم کی غیبت میں آپ کی حرم محترم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔نادانوں نے کہا کہ رسول کریم ملی ایم کی بیوی جھوٹی ہیں حالانکہ جو کچھ انہوں نے فرمایا تھا وہ درست تھا۔حضرت عثمان بنو امیہ کے یتامی کے ولی تھے اور ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی عداوت کو دیکھ کر آپنے کا خوف درست تھا۔ام حبیبہ کا خوف درست تھا کہ یتامی اور بیواؤں کے اموال ضائع نہ ہو جائیں۔جھوٹے وہ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی ال نیم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے دین کی تباہی کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا، نہ ام المومنین ام حبیبہ آپ جھوٹی نہیں تھیں۔حضرت اُم حبیبہ کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا تھا جب اس کی خبر مدینہ میں پھیلی تو صحابہ اور اہل مدینہ حیران رہ گئے اور سمجھ لیا کہ اب ان لوگوں سے کسی رض