اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 16

اصحاب بدر جلد 3 16 حضرت عمر بن خطاب ہیں۔”حضرت عمرؓ جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لٹھ لئے پھرتے تھے جب انہیں اسلام لانانصیب ہوا تو ان میں ایسی تبدیلی پیدا ہوئی کہ دنیا کے فائدہ کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے لگے اور دن رات اسلام کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔31<< یہاں ” جان جوکھوں میں ڈالنے لگے“ دین کے فائدہ کے لیے ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس طرح فرماتے ہیں: ”حضرت عمرؓ سے دیکھو کس قدر فائدہ پہنچا۔ایک زمانہ میں یہ ایمان نہ لائے تھے اور چار برس کا توقف ہو گیا۔اللہ تعالیٰ خوب مصلحت سمجھتا ہے کہ اس میں کیا ستر تھا۔ابو جہل نے تلاش کی کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاوے جو رسول اللہ کو قتل کر دے۔اس وقت حضرت عمر بڑے بہادر اور دلیر مشہور تھے اور شوکت رکھتے تھے۔انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے رسول اللہ کے قتل کا بیڑا اٹھایا اور معاہدہ پر حضرت عمر اور ابو جہل کے دستخط ہو گئے اور قرار پایا کہ اگر عمر قتل کر آویں تو اس قدر روپیہ دیا جاوے۔“ فرماتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ عمر جو ایک وقت رسول اللہ صلی الله علم کو شہید کرنے کے لئے جاتے ہیں دوسرے وقت وہی عمر اسلام میں ہو کر خود شہید ہوتے ہیں۔وہ کیا عجیب زمانہ تھا۔غرض اس وقت یہ معاہدہ ہوا کہ میں قتل کرتا ہوں۔اس تحریر کے بعد آپ کی تلاش اور تجسس میں لگے راتوں کو پھرتے تھے۔“ یعنی آپ صلی اللہ ﷺم کی تلاش میں حضرت عمر تجسس میں لگے رہتے تھے ، راتوں کو پھرتے تھے کہ کہیں تنہامل جاویں تو قتل کر دوں “ آپ صلی علیہ نیلم کو لوگوں سے دریافت کیا کہ آپ تنہا کہاں ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا کہ نصف رات گزرنے کے بعد خانہ کعبہ میں جاکر نماز پڑھا کرتے ہیں۔حضرت عمر یہ سن کر بہت ہی خوش ہوئے۔چنانچہ خانہ کعبہ میں آکر چھپ رہے۔جب تھوڑی دیر گزری تو جنگل سے لا اله الا اللہ کی آواز آتی ہوئی معلوم ہوئی اور وہ آنحضرت صلیم ہی کی آواز تھی۔اس آواز کو سن کر اور یہ معلوم کر کے کہ وہ ادھر ہی کو آرہی ہے۔حضرت عمر اور بھی احتیاط کر کے چھپے اور یہ ارادہ کر لیا کہ جب سجدہ میں جائیں گے تو تلوار مار کر سر مبارک تن سے جد ا کر دوں گا۔آپ نے آتے ہی نماز شروع کر دی۔پھر اس سے آگے کے واقعات خود حضرت عمررؓ بیان کرتے ہیں۔“حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ”اس سے آگے کے واقعات حضرت عمر خود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے سجدہ میں اس قدر رو رو کر دعائیں کیں کہ مجھ پر لرزہ پڑنے لگا۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی علیم نے یہ بھی کہا کہ سَجَدَ لَكَ رُوحِي وَجَنَانِي یعنی اے میرے مولیٰ ! میری روح اور میرے دل نے بھی تجھے سجدہ کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کو سن سن کر جگر پاش پاش ہو تا تھا۔آخر میرے ہاتھ سے ہیبت حق کی وجہ سے تلوار گر پڑی۔میں نے آنحضرت صلی علیکم کی اس حالت سے سمجھ لیا کہ یہ سچا ہے اور ھ کر نکلے ضرور کامیاب ہو جائے گا مگر نفس امارہ برا ہوتا ہے۔بار بار ابھارتا ہے۔”جب آپ نماز پڑھ میں پیچھے پیچھے ہو لیا۔پاؤں کی آہٹ جو آپ کو معلوم ہوئی۔رات اندھیری تھی۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے