اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 331
اصحاب بدر جلد 3 331 63866 حضرت عثمان بن عفان کوئی تم میں سے ہے جو ثواب حاصل کرے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ سنتے ہی اٹھے اور آپ نے اپنا اند وختہ نکال کر وہ رقم مسلمانوں کے اخراجات کے لیے رسول کریم صلی ا ورم کی خدمت میں پیش کر دی۔رسول کریم ملی ایم نے جب یہ دیکھا تو فرمایا عثمان نے جنت خرید لی۔اسی طرح ایک دفعہ ایک کنواں بک رہا تھا۔مسلمانوں کو چونکہ ان دنوں پانی کی بہت تکلیف تھی اس لیے آپ نے اس موقع پر پھر فرمایا کوئی ہے جو ثواب حاصل کرے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔چنانچہ آپ نے وہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ ہم نے پھر فرمایا کہ عثمان نے جنت خرید لی۔اسی طرح ایک اور موقع پر بھی رسول کریم صلی الم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی الفاظ کہے۔غرض تین موقعے ایسے آئے ہیں جہاں رسول کریم صلی علیکم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے جنت خریدلی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علی یم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق بار ہا یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے جنت خرید لی اور وہ جنتی ہیں اور ایک دفعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی علیم نے مسلمانوں سے دوبارہ بیعت لی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت موجود نہ تھے تو آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔میں اس کی طرف سے اپنے ہاتھ پر رکھتا ہوں۔اس طرح آپ نے اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا اور پھر ایک دفعہ آپ نے فرمایا اے عثمان اخد اتعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے گا۔منافق چاہیں گے کہ وہ تیری اس قمیص کو اتار دیں مگر تو اس قمیص کو اُتار یو نہیں۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اب محمد رسول اللہ صلی علیکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہیں کہ اس قمیص کو نہ اتارنا اور جو تم سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں گے وہ منافق ہوں گے۔639 تو اس سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ وہ لوگ جو بھی تھے وہ منافق تھے کیونکہ ان کی پیشگوئی آنحضرت صلی الیکم نے پہلے ہی فرما دی۔حضرت خلیفہ ثالث نے ایک جگہ حضرت عثمان کی قربانی کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ : جنگی ضرورت تھی۔نبی اکرم صلی اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر آگئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے کر آگئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کر لی جائے کہ میں دس ہزار صحابہ هما پورا خرچ برداشت کروں گا اور اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے دیئے۔حضرت عثمان کا حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں کیا کر دار تھا اور آپ کا مقام اور مرتبہ کیا تھا؟ حضرت ابو بکر آپ کو کس طرح کا مقام دیتے تھے۔کیا سمجھتے تھے ؟ حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں الله سة 640"