اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 330
حاب بدر جلد 3 330 حضرت عثمان بن عفان کہ غزوہ تبوک کو جیش العسرة یعنی تنگی والا لشکر بھی کہتے ہیں۔اس غزوہ کی تیاری کے لیے آنحضرت صلی للی سیم نے تحریک فرمائی تو حضرت عثمان نے شام کی طرف تجارت کی غرض سے تیار کیا جانے والا اپنا سو اونٹوں کا قافلہ ان کے کجاووں اور پالانوں سمیت پیش کر دیا۔آنحضرت صلی اللی کم نے پھر تحریک فرمائی تو اس غزوہ کی ضروریات کے پیش نظر حضرت عثمان نے مزید سو اونٹ کجاووں اور پالانوں کے ساتھ تیار کروا کر پیش کر دیے۔آپ نے پھر تحریک فرمائی تو تیسری مرتبہ حضرت عثمان نے پھر مزید ایک سو اونٹ کجاووں اور پالانوں کے ساتھ تیار کروا کے آپ کی خدمت میں پیش کیے۔آنحضرت صلی ا ظلم جب منبر سے نیچے اترے تو آپ نے فرمایا مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذه۔اس کے بعد عثمان جو بھی کرے اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔اس کے بعد عثمان جو بھی کرے اس کا کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ حضرت عثمان نے دو سو اوقیہ سونا بھی نبی کریم صلی العلیم کے حضور پیش کیا۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عثمان نے حاضر ہو کر آنحضرت صلی ال کم کی جھولی میں ایک ہزار دینار ڈال دیے۔اس پر آنحضرت صلی علیہ کی جھولی میں پڑے دیناروں کو الٹتے پلٹتے رہے اور دو مر تبہ فرمایا: مَا ضَرَ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ۔آج کے بعد عثمان جو بھی کرے گا اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔ایک روایت کے مطابق حضرت عثمان نے اس موقع پر دس ہزار دینار عطا کیے تو آنحضرت صلی علیم نے حضرت عثمان کے لیے یہ دعا کی۔غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا عُثْمَانُ مَا اسْتَرَرْتَ وَمَا أعْلَنْتَ وَمَا هُوَ كَائِنُ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا يُبَالِي مَا عَمِلَ بَعْدَهَا کہ اے عثمان ! اللہ تجھ سے مغفرت کا سلوک فرمائے جو تُو نے مخفی طور پر کیا اور جو تُو نے اعلانیہ کیا اور جو قیامت تک ہونے والا ہے۔اس کے بعد وہ جو بھی عمل کرے اسے کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ایک روایت کے مطابق آپ نے اس جنگ کی تیاری کے لیے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے پیش کیے۔ایک روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس موقع پر حضرت عثمان سے فرمایا: اے عثمان! اللہ تعالیٰ تجھے وہ سب کچھ معاف فرمائے جو تو نے مخفی طور پر کیا اور جو تُو نے اعلانیہ کیا اور جو قیامت تک ہونے والا ہے۔اس عمل کے بعد یہ جو بھی کرے اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ایک روایت کے مطابق آنحضرت صلی علیہ ہم نے اس موقع پر حضرت عثمان کے حق میں یہ دعا کی کہ اللَّهُمَّ ارْضِ عَنْ عُثْمَانَ فَانِي عَنْهُ رَاضٍ کہ اے اللہ !تو عثمان سے راضی ہو جا کیونکہ میں اس سے راضی ہوں۔7 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”صحابہ نے بعض دفعہ اپنے گھر کا مال و اسباب بیچ کر جنگ کے اخراجات پورے کیے بلکہ یہ بھی نظر آتا کہ بعض دفعہ انہوں نے اپنی جائیدادیں بیچ کر دوسروں پر خرچ کر دیں اور ان کے لیے تمام ضروریات مہیا کیں۔چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی للی کم باہر تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ فلاں سفر پر ہماری فوج جانے والی ہے مگر مومنوں کے پاس کوئی چیز نہیں۔کیا 637