اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 317

اصحاب بدر جلد 3 317 حضرت عثمان بن عفان آنحضرت صلی له لمر نے ایک خواب دیکھی کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔اس وقت ذو قعدہ کا مہینہ قریب تھا جو زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مبارک مہینوں میں سے سمجھا جاتا تھا جن میں ہر قسم کا جنگ و جدل منع تھا۔گویا ایک طرف آپ نے یہ خواب دیکھی اور دوسری طرف یہ وقت بھی ایسا تھا کہ جب عرب کے طول و عرض میں جنگ کا سلسلہ رک کر امن وامان ہو جاتا تھا۔گو یہ حج کے دن نہیں تھے اور ابھی تک اسلام میں حج باقاعدہ طور پر مقرر بھی نہیں ہوا تھا لیکن خانہ کعبہ کا طواف ہر وقت ہو سکتا تھا۔اس لیے آپ نے اس خواب دیکھنے کے بعد اپنے صحابہ سے تحریک فرمائی کہ عمرہ کے واسطے تیاری کر لیں۔اس موقع پر آپ نے صحابہ میں یہ بھی اعلان فرمایا کہ چونکہ اس سفر میں کسی قسم کا جنگی مقابلہ مقصود نہیں ہے بلکہ محض ایک پر امن دینی عبادت کا بجالانا مقصود ہے اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس سفر میں اپنے ہتھیار ساتھ نہ لیں۔البتہ عرب کے دستور کے مطابق صرف اپنی تلواروں کو نیاموں کے اندر بند کر کے مسافرانہ طریق پر اپنے ساتھ رکھا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی آپ نے مدینہ کے گردونواح کے بدوی لوگوں میں بھی جو بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھے یہ تحریک فرمائی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو کر عمرہ کی عبادت بجالائیں مگر افسوس ہے کہ ایک نہایت قلیل یعنی برائے نام تعداد کے سوا ان مسلمان کہلانے والے کمزور ایمان بدوی لوگوں نے جو مدینہ کے آس پاس آباد تھے آنحضرت صلی ایم کے ساتھ نکلنے سے احتراز کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ خواہ مسلمانوں کی نیت عمرہ کے سوا کچھ نہیں مگر قریش بہر حال مسلمانوں کو روکیں گے اور اس طرح مقابلہ کی صورت پید ا ہو جائے گی اور وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ مقابلہ مکہ کے قریب اور مدینہ سے دور ہو گا اس لیے کوئی مسلمان بچ کر واپس نہیں آسکے گا۔اس لیے ڈر کر وہ اس میں شامل نہیں ہوئے۔بہر حال آنحضرت صلی المیہ کم کچھ اوپر چودہ سو صحابیوں کی جمعیت کے ساتھ ذو قعدہ 6 ہجری کے شروع میں ہی پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے روانہ ہوئے۔اس سفر میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ آپ کے ہم رکاب تھیں اور مدینہ کا امیر تمیلہ بن عبد اللہ ہو اور امام الصلوة عبد الله بن أم مكتوم موجو آنکھوں سے معذور تھے مقرر کیا گیا تھا۔جب آپ ذُو الحلیفہ میں پہنچے جو مدینہ سے قریباً چھ میل کے فاصلہ پر مکہ کے راستہ پر واقع ہے تو آپ نے ٹھہرنے کا حکم دیا اور نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد قربانی کے اونٹوں کو جو تعداد میں ستر تھے نشان لگائے جانے کا ارشاد فرمایا اور صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ حاجیوں کا مخصوص لباس جو اصطلاحا احرام کہلاتا ہے پہن لیں اور آپ نے خود بھی احرام باندھ لیا اور پھر قریش کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لیے کہ آیا وہ کسی شرارت کا ارادہ تو نہیں رکھتے ایک خبر رساں بسر بن سفیان نامی کو جو قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھتا تھا، جو مکہ کے قرب میں آباد تھا، آگے بھیجوا کر آہستہ آہستہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور مزید احتیاط کے طور پر مسلمانوں کی بڑی جمعیت کے آگے آگے رہنے کے لیے عباد بن بشر کی کمان میں ہیں سواروں کا ایک دستہ بھی متعین فرمایا۔جب آپ چند روز کے سفر کے بعد عشفان کے قریب پہنچے جو مکہ