اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 313

اصحاب بدر جلد 3 313 حضرت عثمان بن عفان سامنے دف بجاؤ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔رسول اللہ صلی اللہ تم تین دن کے بعد حضرت ام کلثوم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔اے میری پیاری بیٹی ! تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ ام کلثوم نے عرض کیا وہ بہترین شوہر ہیں۔618 حضرت ام کلثوم حضرت عثمان کے ہاں 19 ہجری تک رہیں اس کے بعد وہ بیمار ہو کر وفات پاگی گئیں۔619 رسول اللہ صلی الم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی قبر کے پاس بیٹھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی للی کیم کو حضرت ام کلثوم کی قبر کے پاس اس حال میں بیٹھے ہوئے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔بخاری کی ایک روایت میں اس واقعہ کا یوں ذکر ہوا ہے کہ ہلال نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی الم کی بیٹی کے جنازے پر موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی للہ کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہارہی تھیں۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی نیلم نے حضرت ام کلثوم کی وفات پر فرمایا: 620 اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی بھی عثمان سے کروا دیتا۔621 حضرت ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم ایک جگہ سے گزرے تو دیکھا کہ حضرت عثمان و ہاں بیٹھے تھے اور حضرت ام کلثوم بنت رسول صلی یہ کم کی وفات کے غم میں رور ہے تھے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی الی نام کے ہمراہ آپ کے دونوں ساتھی یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔رسول اللہ صلی علیکم نے پوچھا اے عثمان ! تم کس وجہ سے رورہے ہو ؟ حضرت عثمان نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ میرا آپ سے دامادی کا تعلق ختم ہو گیا ہے۔دونوں بیٹیاں فوت ہو گئیں۔آپ نے فرمایا کہ مت رو۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر میری سو بیٹیاں ہو تیں اور ایک ایک کر کے فوت ہو جاتیں تو میں ہر ایک کے بعد دوسری کو تجھ سے بیاہ دیتا یہاں تک کہ سو میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔2 بہر حال یہ ایک محبت کا اظہار تھا جو دونوں طرف سے ہوا۔ایک فکر تھی حضرت عثمان کی۔اس رشتہ کا جو تعلق تھاوہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے قائم رکھا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ تعلق تو قائم ہے۔623 حضرت عثمان کی غزوات میں شمولیت کا ذکر کرتا ہوں۔622 جیسا کہ غزوہ بدر کے بارے میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ حضرت عثمان غزوہ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے کیونکہ آپ کی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول صل الله یکم سخت بیمار تھیں اس لیے آنحضرت صلی ا ہم نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ ان کی تیمار داری کے لیے مدینہ میں ٹھہریں اور آپ کو بدر میں شامل ہونے والوں کی طرح ہی قرار دیا۔اسی لیے رسول اللہ صلی علیم نے آپ کے لیے بدر میں شامل ہونے والوں کی طرح مالِ