اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 302

حاب بدر جلد 3 302 حضرت عمر بن خطاب پایا۔یہ دونوں ہی آفتاب امم و ملل (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع میں مہتاب سے بھی زیادہ سریع الحرکت تھے اور آپ کی محبت میں فنا تھے۔انہوں نے حق کے حصول کی خاطر ہر تکلیف کو شیر میں جانا اور اس نبی کی خاطر جس کا کوئی ثانی نہیں، ہر ذلت کو برضاور غبت گوارا کیا اور کافروں اور منکروں کے لشکروں اور کافروں سے مٹھ بھیڑ کے وقت شیروں کی طرح سامنے آئے یہاں تک کہ اسلام غالب آ گیا اور دشمن کی جمعیتوں نے ہزیمت اٹھائی۔شرک چھٹ گیا اور اس کا قلع قمع ہو گیا اور ملت و مذہب کا سورج جگمگ جگمگ کرنے لگا اور مقبول دینی خدمت بجالاتے ہوئے اور مسلمانوں کی گردنوں کو لطف و احسان سے زیر بار کرتے ہوئے ان دونوں کا انجام خیر المرسلین کی ہمسائیگی پر منتج ہوا اور یہ اس اللہ کا فضل ہے جس کی نظر سے متقی پوشیدہ نہیں اور بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔جو شخص بکمال شوق اللہ کے دامن سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ اسے ہر گز ضائع نہیں کرتا، خواہ دنیا بھر کی ہر چیز اس کی دشمن ہو جائے اور اللہ کا طالب کسی نقصان اور تنگی کا منہ نہیں دیکھتا اور اللہ صادقوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔اللہ اکبر ! ان دونوں (ابو بکر و عمر) کے صدق و خلوص کی کیا بلند شان ہے! وہ دونوں ایسے (مبارک) مدفن میں دفن ہوئے کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو بصد رشک وہاں دفن ہونے کی تمنا کرتے لیکن یہ مقام محض تمنا سے تو حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ صرف خواہش سے عطا کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ تو بارگاہ رب العزت کی طرف سے ایک ازلی رحمت ہے اور یہ رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف رخ کرتی ہے جن کی طرف عنایت الہی) ازل سے متوجہ ہو۔( یہی لوگ ہیں) جنہیں انجام کار اللہ کے فضل کی چادر میں ڈھانپ لیتی ہیں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: "آنحضرت صلی علیم کے بعد جو کچھ اسلام کا بنا ہے وہ اصحاب ثلاثہ سے ہی بنا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا ہے وہ اگر چہ کچھ کم نہیں مگر ان کی کارروائیوں سے کسی طرح صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خفت نہیں ہو سکتی کیونکہ کامیابی کی پڑی تو صدیق اکبر نے ہی جمائی تھی اور الشان فتنہ کو انہوں نے ہی فرو کیا تھا۔ایسے وقت میں جن مشکلات کا سامنا حضرت ابو بکر کو پڑا وہ حضرت عمرؓ 595❝ عظ کو ہر گز نہیں پڑا۔پس صدیق نے رستہ صاف کر دیا تو پھر اس پر عمرؓ نے فتوحات کا دروازہ کھولا۔596 پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل کی کیفیت کے بارے میں لکھتے ہیں جو آپ کے دل میں رسول کریم صلی یہ کم اور شیخین حضرت ابو بکر و عمر کی محبت اور عزت کی رم تھی کہ: ”ایک دفعہ ایک دوست نے جو محبت مسیح موعود میں فنا شدہ تھے۔آپ کی خدمت میں عرض کی کہ کیوں نہ ہم آپ کو مدارج میں شیخین ، یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر " سے افضل سمجھا کریں اور رسول اکرم صلی الم کے قریب قریب مانیں؟ اللہ اللہ ! اس بات کو سن کر حضرت اقدس یعنی مسیح موعود