اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 269
محاب بدر جلد 3 269 حضرت عمر بن خطاب میں نظر آجاتے ہیں اور انسان پر ایک ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ پھر کسی کے روکے وہ علوم جو اس کے دل پر نازل کئے جاتے ہیں نہیں رک سکتے۔پس ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور غور کرنے کی کوشش کرے۔489 حضرت عمر کی عاجزی اور انکساری کے بارے میں ایک روایت میں اس طرح ذکر ملتا ہے۔بجبیر بن نظیر سے روایت ہے کہ ایک جماعت نے عمر بن خطاب سے کہا اے امیر المومنین! اللہ کی قسم ہم نے کسی شخص کو آپ سے زیادہ انصاف کرنے والا، زیادہ حق گو اور منافقین پر سختی کرنے والا نہیں دیکھا۔بیشک آپ رسول اللہ صلی علیم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ہیں۔عوف بن مالک نے اس کہنے والے شخص کو کہا کہ اللہ کی قسم ! تم نے جھوٹ بولا ہے۔یقینا ہم نے نبی کریم صلی علیم کے بعد ان سے بہتر کو دیکھا ہے یعنی حضرت عمر سے بہتر کو بھی دیکھا۔تو حضرت عمر نے پوچھا اے عوف ! وہ کون ہے تو انہوں نے کہا ابو بکر۔حضرت عمرؓ نے فرمایا عوف نے بیچ بولا اور اس شخص کو کہا کہ تم نے جھوٹ بولا۔اللہ کی قسم ! ابو بکر مشک 490 کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہیں اور میں اپنے گھر والوں کے اونٹوں سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا ہوں۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں ” حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر کی کسی بات پر تکرار ہو گئی۔یہ تکرار بڑھ گئی۔حضرت عمر کی طبیعت تیز تھی۔اس لئے حضرت ابو بکر نے مناسب سمجھا کہ وہ اس جگہ سے چلے جائیں تا کہ جھگڑا خواہ مخواہ زیادہ نہ ہو جائے۔حضرت ابو بکر نے جانے کی کوشش کی تو حضرت عمرؓ نے آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر کا کرتہ پکڑ لیا کہ میری بات کا جواب دے کر جاؤ۔جب حضرت ابو بکر اس کو چھڑا کر جانے لگے تو آپ کا کرتہ پھٹ گیا۔آپ وہاں سے اپنے گھر کو چلے آئے لیکن حضرت عمرؓ کو شبہ پید اہوا کہ حضرت ابو بکر رسول کریم صلی ایم کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں۔وہ بھی پیچھے پیچھے چل پڑے تا کہ میں بھی رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں اپنا عذر پیش کر سکوں لیکن راستے میں حضرت ابو بکر حضرت عمر کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔حضرت عمر یہی سمجھے کہ آپ رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں شکایت کرنے گئے ہیں وہ بھی سیدھے رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں جا پہنچے۔وہاں جا کر دیکھا تو حضرت ابو بکر موجود نہ تھے لیکن چونکہ ان کے دل میں ندامت پیدا ہو چکی تھی اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں ابو بکر سے سختی سے پیش آیا۔حضرت ابو بکر کا کوئی قصور نہیں۔میر اہی قصور ہے۔جب حضرت عمر رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر کو جا کر کسی نے بتایا کہ حضرت عمر ر سول کریم صلی الی نیم کے پاس آپ کی شکایت کرنے گئے ہیں۔حضرت ابو بکر کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے بھی اپنی براءت کے لئے جانا چاہئے تاکہ یکطرفہ بات نہ ہو جائے اور میں بھی اپنا نقطہ نگاہ پیش کر سکوں۔جب حضرت ابو بکر رسول کریم صلیالی کم کی خدمت میں مجلس میں پہنچے تو حضرت عمرؓ عرض کر رہے تھے کہ یارسول اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے حضرت ابو بکر سے تکرار کی اور ان کا