اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 214
محاب بدر جلد 3 214 حضرت عمر بن خطاب کسری کے در میان جنگ بالکل جائز ہو گئی لیکن اخلاقی طور پر حضرت عمر سری کو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ شاید تم نے اس حملے کا حکم نہ دیا ہو بلکہ سپاہیوں نے خود بخود حملہ کر دیا ہو اس لئے ہم اس حملہ کو نظر انداز کرنے کے لئے تیار ہیں بشر طیکہ تم ہم سے معافی مانگو اور اس فعل پر ندامت کا اظہار کرو مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اسی طرح حضرت عثمان نے اپنے زمانہ میں دشمنوں کو یہ نہیں کہا کہ تم نے ظلم تو کیا ہے لیکن چونکہ ہمارا مذ ہب ظلم کی معافی کی بھی تعلیم دیتا ہے اس لئے ہم تمہیں معاف کرتے ہیں بلکہ وہ فوراً اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور لشکر بھیجے ، لڑائی کی اور پھر اس لڑائی کو جاری رکھا۔آخر اس کی کیا وجہ تھی ؟“ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ”اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں تھی کہ حضرت ابو بکر جانتے تھے کہ جب بھی بیرونی خطرہ کم ہوا اندرونی فسادات شروع ہو جائیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ قیصر نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تا مسلمان اس مصیبت کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں اور اپنے اندر نئی زندگی اور نیا تغیر پیدا کریں۔حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ کسریٰ نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تاکہ مسلمان غافل، سست ہو کر دنیا میں منہمک نہ ہو جائیں بلکہ ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہیں۔حضرت عثمان جانتے تھے کہ بعض قبائل نے مسلمانوں پر حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تاکہ مسلمان بیدار ہوں اور ان کے اندر ایک نئی روح اور ایک نئی زندگی پیدا ہو۔367 حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک خطبہ میں یہ بیان فرمایا تھا۔اس بنیاد پر حضرت مصلح موعودؓ نے اس میں آگے پھر یہ بھی اعلان فرمایا ہے ، جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ مصائب آتے ہیں، مشکلات میں ے گزرنا پڑتا ہے تاکہ روحانی ترقی ہو۔اور اس اصول کو اگر ہم آج بھی یاد رکھنا چاہتے ہیں تو پھر یاد رکھیں کہ یہ مصائب اور مشکلات جو ہیں ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہونے چاہئیں اور یہی فتوحات کا پھر ذریعہ بنتے ہیں۔اگر ان باتوں میں ہم صرف ڈر کے پیچھے پیچھے رہتے رہیں اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں تو پھر ترقی نہیں ہو سکتی۔ہاں جب ترقیات مل جائیں اور مصائب ختم ہو جائیں تب بھی ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ سے رہنا چاہیے لیکن ان دنوں میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے اور ہمیں اپنی روحانی ترقی اور روحانی بہتری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہی لکھا ہے کہ اگر ہم نے اس بات کو نہیں سمجھا تو کچھ نہیں سمجھا اور یہی بات ہر ایک احمدی کے لیے آج کل بھی سمجھنے والی ہے۔168 حضرت عمر کی فتوحات کے اسباب و عوامل حضرت عمرؓ کی سیرت و سوانح لکھنے والے ایک سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی حضرت عمر کی فتوحات اور اس کے اسباب اور عوامل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مورخ کے دل میں فوراً یہ سوالات پیدا