اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 204

اصحاب بدر جلد 3 204 حضرت عمر بن خطاب کے منبع کے پاس واقع تھی۔یہ خلیج سویز کے قریب شہر مصر کو بحیرہ روم سے ملاتی تھی جہاں آج کل قاہرہ کا محلہ ازبکیہ ہے وہیں اس زمانے میں اُم دُنین کی بستی تھی جسے رومیوں نے قلعہ بند کر رکھا تھا۔اس کے قریب دریائے نیل کا گھاٹ تھا اور اس گھاٹ پر بہت سی کشتیاں کھڑی رہتی تھیں۔یہ بستی باہلیوں کے شمال میں تھی جو شہر مصر کا سب سے بڑا قلعہ تھا۔اس لحاظ سے اُم دُنین کو مصریوں کے اس محبوب علاقے کی، جو گذشتہ زمانوں کے فرعونوں کا دارالحکومت بھی رہ چکا تھا، سب سے پہلی دفاعی چو کی کہا جاسکتا ہے۔اُم دُنین کے قریب جا کر مسلمانوں نے پڑاؤ ڈالا۔رومیوں نے قلعہ بابلیوں میں اپنی بہترین فوج پہنچادی تھی اور اُم ڈرین کے قلعہ کو خوب اچھی طرح مضبوط کر کے جنگ کے لیے تیار ہو گئے تھے۔جاسوسوں کی خبروں سے حضرت عمر و بن عاص کو اندازہ ہو گیا کہ ان کی فوج قلعہ بابلیون کی فتح یا اس کے محاصرے کے لیے ناکافی ہے۔انہوں نے ایک قاصد کے ہاتھ ایک خط مدینہ بھیجا اور اس میں اپنے سفر مصر کے حالات، قلعوں کی تفصیلات اور ان پر حملہ کرنے کے لیے کمک کی ضرورت کا اظہار کیا۔ادھر فوج میں یہ اعلان کر دیا کہ امدادی فوجیں بہت جلد پہنچنے والی ہیں۔اس کے بعد اُم دُنین کی طرف بڑھے اور اس کا محاصرہ کر کے قلعہ میں غذائی اور فوجی ضروریات کے سامان کی رسد روک دی۔قلعہ باہلیوں میں جو رومی تھے انہوں نے ادھر آنے کی کوشش نہ کی کیونکہ بلبیس میں ارطبون کا حشر دیکھ چکے تھے اور وہ جانتے تھے کہ عربوں سے کھلے میدان میں لڑنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔اُم دُنین کی فوجیں البتہ کبھی کبھار نکلتیں اور ناکام جھڑپوں کے بعد واپس ہو جاتیں۔کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔اسی اثنا میں خبر ملی کہ بار گاہِ خلافت سے پہلی امدادی فوج روانہ کر دی گئی اور وہ آج کل میں پہنچا چاہتی ہے۔اس خبر سے مسلمانوں کی ہمت اور طاقت میں اضافہ ہو گیا۔حضرت عمرؓ نے اسلامی لشکر کی مدد کے لیے چار ہزار سپاہی بھیجے۔حضرت عمرؓ نے ہر ہزار آدمی پر ایک امیر مقرر کیا۔ان امراء کے نام حضرت زبیر بن عوام، حضرت مقداد بن اسود، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت مَسْلَمہ بن مُخَلّد تھے۔ایک قول کے مطابق حضرت مَسْلَمہ بن مُخَلَّد کی جگہ خارجہ بن حذافہ امیر تھے۔حضرت عمرؓ نے یہ کمک بھیجنے کے ساتھ حضرت عمر و بن عاص کو خط لکھا کہ اب تمہارے ساتھ بارہ ہزار مجاہدین ہیں۔یہ تعداد کمی کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو گی۔رومی جنگجو قبطیوں کو ساتھ لے کر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلے۔دونوں فوجوں میں شدید لڑائی ہوئی۔حضرت عمرو بن عاص نے حکمت عملی سے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ایک حصہ کو جَبَلِ احمد کے قریب ایک جگہ پر ٹھہرا دیا۔دوسرے حصے کو اُم دُنین کے قریب دریائے نیل کے کنارے ایک جگہ پر ٹھہر ادیا اور فوج کا بقیہ حصہ لے کر دشمن کے مقابلے پر نکلے۔جس وقت دونوں فوجوں میں سخت لڑائی ہو رہی تھی جبلِ احمد میں چھپی فوج نے نکل کر پیچھے سے حملہ کر دیا جس سے دشمن کا فوجی نظام درہم برہم ہو گیا اور وہ اُم دُنین کی طرف بھاگے۔رض 348